ڈینگی پھیلاؤ کا خطرہ
لاہور میں ڈینگی کے 30ہزار سے زائد ہاٹ سپاٹس کی موجودگی کا انکشاف ایک بڑے وبائی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے‘ جبکہ مون سون کی بارشوں کے بعد صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی سرویلنس بروقت شروع نہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایسے وقت میں جب بارشیں مچھروں کی افزائش کیلئے سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں‘ نگرانی میں تاخیر بڑی انتظامی غفلت ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ڈینگی بخار اب محض موسمی بیماری نہیں رہا بلکہ اسکے پھیلاؤ کا دائرہ سال بھر پر پھیل چکا ہے اور 2012ء سے 2022ء کے دوران اسکے پھیلاؤ میں تقریباً تین ہزار گنا اضافہ ہوا۔ 2012ء میں ملک میں ڈینگی کے تقریباً ایک لاکھ کیس رپورٹ ہوئے‘ جو 2022ء میں بڑھ کر 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئے۔

دوسری جانب اب یہ مسئلہ صرف مچھروں کے خاتمے تک محدود نہیں رہا بلکہ نکاسی آب‘ صفائی‘ کچرے کے مؤثر انتظام اور صحت کے نگرانی کے نظام سے بھی منسلک ہو چکا ہے۔ لہٰذا حکومت کو محض فوگنگ مہمات تک محدود رہنے کے بجائے ہاٹ سپاٹس کی جیو ٹیگنگ‘ لاروا سرویلنس‘ بروقت لاروا کشی اور کھڑے پانی کا فوری نکاس یقینی بنانا ہو گا۔ اگر ڈینگی ہاٹ سپاٹس کے نشاندہی کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے غفلت برتی گئی تو یہ ہاٹ سپاٹس چند روز میں مچھروں کی افزائش کے مراکز بن کر ڈینگی کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔