چشم کشا صورتحال
پلڈاٹ کے نیشنل سٹیزن سروے 2026ء کے نتائج حکومت کیلئے ایک سنجیدہ عوامی انتباہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سروے کے مطابق 91 فیصد شہریوں نے ملک میں نیا کاروبار شروع کرنے یا چلانے کو مشکل قرار دیا اور اس ضمن میں بھاری ٹیکسوں کو سب سے بڑی رکاوٹ بتایا۔ 19 فیصد رائے دہندگان نے بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں جبکہ 18فیصد نے کرپشن کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ 68 فیصد رائے دہندگان نے آئی ایم ایف پروگرام کو عوام کیلئے نقصان دہ یا بے فائدہ قرار دیا جبکہ 60 فیصد کا کہنا تھا کہ تعلیمی نظام جدید معیشت کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ 85فیصدرائے دہندگان نے پارلیمنٹ اور 87فیصد نے مالیاتی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ پارلیمنٹ کسی بھی جمہوری نظام میں عوام کی نمائندہ آواز ہوتی ہے۔ اگر شہری اسی ادارے سے بداعتماد ہو جائیں تو یہ جمہوری نظام کیلئے خطرے کی علامت ہے۔

یہ سروے اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عام آدمی اس وقت مہنگائی‘ بڑھتے ہوئے بجلی و گیس کے بلوں‘ بھاری ٹیکسوں اور معاشی غیر یقینی کے ہاتھوں کس قدر پریشان ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا بوجھ کاروباری طبقے اور عام شہری کو یکساں طور پر متاثر کر رہا ہے۔ حکومت کو ان سروے نتائج کو اپنی پالیسیوں کے آئینے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے حکومت کو اپنے فیصلوں میں شفافیت‘ اخراجات میں کفایت‘ اشرافیہ پر مؤثر ٹیکس‘ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور حقیقی عوامی ریلیف کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔