اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

معاشی استحکام اور عالمی خطرات کا چیلنج

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو 11.5فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو موجودہ ملکی وبین الاقوامی معاشی حالات کے تناظر میں ایک محتاط مگر متوازن قدم دکھائی دیتا ہے۔ مرکزی بینک کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی معیشت اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے‘ جہاں ایک طرف مہنگائی کو قابو میں رکھنے کی کوششیں ثمر آور ہو رہی ہیں اور دوسری طرف غیر یقینی عالمی صورتحال عبوری معاشی استحکام کیلئے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ملکی معاشی حالات اور مہنگائی کی شرح اگرچہ مرکزی بینک کی توقعات کے عین مطابق ہیں‘ تاہم مستقبل کا منظرنامہ غیر یقینی کا شکار ہے‘ جس کی وجہ سے پالیسی ریٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے گریز کیا گیا ہے۔ اگر ہم مانیٹری پالیسی کا جائزہ لیں تو گزشتہ چند ماہ سے یہ اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی آنے پر شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی تھی۔

اس وقت توقع کی جا رہی تھی کہ شرح سود آئندہ چند ماہ میں دوبارہ یک ہندسی ہو جائے گی مگر کمی کا سلسلہ برقرار نہ رہ سکا اور عالمی سطح پر ابھرنے والے نئے معاشی خدشات‘ خاص طور پر امریکہ ایران جنگ‘ آبنائے ہرمز کی بندش‘ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کو لاحق خطرات کے باعث رواں سال اپریل میں شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرنا پڑا۔ تاہم اب عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر بی تھری کر دی ہے۔ یورو بانڈز کے ذریعے تین ارب ڈالر حاصل کیے گئے ہیں‘ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 17ارب ڈالر سے زائد ہیںاور رواں مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں (جولائی‘ اگست) کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں بھی ہدف کے مطابق رہی ہیں۔ ان اہم پیشرفتوں نے معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کی راہ ہموار کی ہے۔ تاہم اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ‘ اسکے پھیلاؤ اور خام تیل کی قیمتوں پہ اسکے اثرات نے ایک نیا دبائو پیدا کر دیا ہے جس کے سبب شرح سود بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا‘ تاہم مرکزی بینک نے ایک متوازن فیصلہ کیا ہے۔ اگر علاقائی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو بھارت نے گزشتہ ماہ شرح سود کو 5.25 فیصد کی سطح پر برقرار رکھا تھا۔ بنگلہ دیش نے اگست میں شرح سود کو 10 فیصد سے کم کر کے 9.5 فیصد کیا ہے۔ سری لنکا میں شرح سود 8.75 فیصد ہے۔

یعنی اضافہ نہ ہونے کے باوجود علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا پالیسی ریٹ خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ بلند شرح سود کے سبب بینکوں سے قرض لے کر نئی صنعتیں لگانا یا کاروبار کو پھیلانا مشکل ہو جاتا ہے‘ جس سے معاشی نمو سست پڑ جاتی ہے‘ تاہم علاقائی جغرافیائی اور سیاسی حالات شرح سود کو کم کرنے میں اب ایک نئی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ خلیج فارس کے بعد اب بحیرہ احمر کی صورتحال بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو جنگی خطرات کا پریمیم صرف خام تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ درآمدی اشیا کی ترسیل کے مجموعی اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا اور مہنگائی کی شرح بھی توقعات سے بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کیلئے‘ جو خلیجی خطے کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے‘ یہ صورتحال فوری اقدامات کی متقاضی ہے۔ ایک محتاط مانیٹری پالیسی معیشت کو بیرونی حالات کے اثرات سے ایک حد تک تحفظ فراہم کر سکتی ہے‘ نہ تو یہ عالمی حالات کا توڑ نکال سکتی ہے اور نہ ہی سپلائی چین کے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔

یہ محض داخلی سطح پر ایک عارضی گنجائش فراہم کرسکتی ہے تاکہ معاشی استحکام کیلئے پائیدار اقدامات کیے جا سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مالیاتی استحکام اور معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچائے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے تاکہ مرکزی بینک پر سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا بوجھ کم ہو سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں