ریلیف اور عملی اقدامات
حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کیساتھ مذاکرات کے بعد پٹرول ریلیف پیکیج کو ملک بھر میں فعال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اصل کام محض ریلیف کا اعلان نہیں بلکہ اس سکیم کا زمینی سطح پر نفاذ ہے۔ رواں ماہ کے پہلے عشرے میں پٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لٹر سے زائد اضافے اور مہنگائی میں ہوشربا اضافے کے بعد حکومت نے 13 ستمبر کو موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کیلئے فی لٹر 100 روپے ریلیف کا اعلان کیا تھا مگر اس پورے عمل میں سب سے اہم فریق یعنی پٹرول پمپ مالکان کو ہی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ نتیجتاً وہ شہری‘ جن کیلئے یہ سکیم بنائی گئی تھی‘ پانچ روز تک اس ریلیف سے محروم رہے۔ اب پٹرول پمپ مالکان سے معاملات طے پانے کے بعد اس سکیم کے باقاعدہ آغاز کا امکان ہے‘ تاہم حکومت کو اب بھی اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کو فوری طور پر متحرک کر کے پٹرول پمپس کی رئیل ٹائم نگرانی یقینی بنانی چاہیے۔

دوسری جانب یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ریلیف پیکیج کے باعث ٹرانسپورٹ‘ اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کے نرخ مستحکم رہیں۔ عوام کو اعلانات سے نہیں بلکہ عملی نفاذ سے ریلیف ملے گا‘ لہٰذا حکومت کو پٹرول ریلیف سکیم کو کاغذی اعلانات سے نکال کر ملک کے ہر پٹرول پمپ اور ہر مستحق شہری تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔