صنفی امتیاز
ورلڈ اکنامک فورم کی تازہ ترین گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2026ء میں پاکستان کو 145ممالک کی فہرست میں 143ویں نمبر پر رکھا گیا ہے‘ جبکہ گزشتہ برس پاکستان 148 ممالک میں آخری نمبر پر تھا۔ صنفی برابری کا مجموعی سکور اب 56.7 فیصد سے بڑھ کر 59.5 فیصد ہو گیا ہے۔ بلاشبہ یہ بہتری خوش آئند ہے مگر صنفی امتیاز کے حوالے سے پاکستان اب بھی دنیا کے نچلے ترین ممالک میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے نمایاں تضاد تعلیم اور معیشت کے شعبوں میں دکھائی دیتا ہے۔ تعلیمی حصول میں پاکستان کا صنفی برابری کا سکور 91.7 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے‘ جو گزشتہ برس سے چھ فیصد بہتر ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں خواتین کے اندراج کے اعتبار سے پاکستان عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے باوجود خواتین کو روزگار کے بہتر مواقع میسر کیوں نہیں آ پاتے؟ رپورٹ کے مطابق معاشی شرکت و روزگار کے مواقع کے حوالے سے صنفی برابری کا سکور محض 36.4 فیصد ہے۔ اگرچہ گزشتہ برس کے مقابلے میں کچھ بہتری آئی ہے مگر یہ بہتری ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی جہاں اسے صنفی مساوات کہا جا سکے۔ خواتین پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف ہیں۔ اگر ملک کی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو محدود رکھا جائے گا تو ملکی ترقی کی رفتار بھی محدود رہے گی۔ خواتین کو تعلیم و روزگار کے برابر مواقع‘ محفوظ ماحول‘ منصفانہ اجرت‘ کاروباری مواقع اور فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی دینا قومی معیشت کی ناگزیر ضرورت ہے۔