اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ایل این جی کی قلت

بینکاک میں منعقدہ 54ویں سالانہ گیس ٹیک کانفرنس میں پاکستان کو ایل این جی بحران سے شدید متاثرہ ملک قرار دیا گیا ہے۔ ملک ِعزیز اپنی ضرورت کی تقریباً 99فیصد ایل این جی قطر اور متحدہ عرب امارات سے درآمد کرتا ہے لیکن آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ان ممالک سے سپلائی معطل ہو چکی ہے۔ درآمدی ایل این جی بجلی کی پیداوار‘ کھادسازی اور دیگر صنعتی سرگرمیوں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ اس وقت تقریباً 55سو میگا واٹ بجلی درآمدی ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس سے حاصل کی جاتی ہے جس کی وجہ سے گیس کی دستیابی میں کمی براہِ راست بجلی کی پیداوار پر اثر انداز ہورہی ہے۔ کسی ایک سپلائر یا خطے پر انحصار بحران کے وقت مشکلات پیدا کرتا ہے۔

اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ملکی توانائی پالیسی میں تنوع پیدا کرے‘ طویل المدتی معاہدوں کیساتھ ساتھ متبادل سپلائی چینز کو بھی فعال کرے اور مقامی پیداوار میں اضافہ کو ترجیح دے۔ ساتھ ہی ملک میں ایل ایج جی کی سٹوریج کی صلاحیت بڑھانا ناگزیر ہے تاکہ چند دنوں کی ترسیلی رکاوٹ پورے توانائی نظام کو مفلوج نہ کر سکے۔ اصل توجہ ایل این جی پر مستقل انحصار کم کرنے پر ہونی چاہیے۔ اس مقصد کیلئے حکومتی سطح پر سولر‘ وِنڈ اور ہائیڈل انرجی اور بیٹری سٹوریج سسٹم میں سرمایہ کاری بڑھانا ہو گی۔ حکومت کو ایک متنوع‘ مقامی وسائل پر زیادہ انحصار رکھنے والا اور بیرونی جغرافیائی سیاسی جھٹکوں سے نسبتاً محفوظ توانائی نظام تشکیل دینا چاہیے‘ بصورت دیگر توانائی بحران وقتی نہیں بلکہ مستقل معاشی دباؤ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں