اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کا شاخسانہ

کوہاٹ میں دہشت گردی کے واقعے کے تانے بانے بھی افغانستان سے ملے ہیں اور دہشت گردی میں ملوث ایک خود کش حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ ملکِ عزیز میں دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کا کسی نہ کسی طرح ملوث پایا جانا ایک طے شدہ امر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے ایک بیان کے مطابق پاکستان میں ہونیوالے خودکش حملوں کے تقریباً 80 فیصد حملہ آور افغان شہری ہیں۔ افغانستان میں غیر ملکی افواج اور سابق افغان سکیورٹی اداروں کے چھوڑے ہوئے بھاری اسلحے اور عسکری آلات بھی علاقائی سکیورٹی کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ افغان عبوری حکومت کی ناکامی صرف اسی حد تک نہیں کہ وہ افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بننے سے نہیں روک سکی بلکہ یہ بھی ہے کہ اس نے اس جدید اسلحے اورفوجی سازو سامان کو دہشت گردوں تک پہنچنے سے نہیں روکا۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جب 2021ء میں طالبان نے افغانستان کا کنٹرول دوبارہ سنبھالا تو تقریباً دس لاکھ ہتھیاراور بھاری مقدار میں فوجی سازوسامان ان کے ہاتھ لگا مگر اس میں سے کم از کم آدھے ہتھیار اور دیگر سامان شدت پسند تنظیموں تک پہنچ چکے ہیں۔

جدید اسلحے اور فوجی سامان کی دستیابی نے افغانستان میں موجود شدت پسند تنظیموں کی دہشت گردانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور ہمسایہ ملک کیلئے افغانستان سے ابھرنے والے مسلسل اور سنگین خطرات کیلئے افغان عبوری حکومت جوابدہ ہے۔ پاکستان گزشتہ پانچ برس کے دوران اَنگنت مرتبہ طالبان عبوری حکومت کو اسکی ذمہ داریوں سے خبردار کر چکا ہے مگر دہشت گردی کے مسلسل واقعات اور ان واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث پایا جانا اس امر کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی علاقائی ذمہ داریوں سے غافل ہے اور افغانستان بڑی تیزی سے عالمی دہشت گردی کے اڈے میں تبدیل ہوا ہے۔ افغان حکومت اپنی اس ذمہ داری سے صرفِ نظر نہیں کر سکتی کہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کیلئے دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکے۔ اگر طالبان یہ ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے‘ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ایک امید سی تھی کہ افغان بیس سالہ جنگ کے بعد اپنے ملک کا انتظام سنبھالیں گے تو شدت پسندانہ ماضی کی طرف لوٹ کر جانے کے بجائے خطے اور دنیا کیساتھ مل کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے‘ مگرجلد ہی یہ امیدیں دم توڑ گئیں اور پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کیلئے نرم گوشے نے افغانستان کو اسی مقام پر لا کھڑا کیا جہاں دہائیوں پہلے کھڑا تھا۔ حالانکہ اس دوران علاقائی سطح پر ترقی کے نئے مواقع اور ضروریات نے افغانستان کیلئے ترقی کے کئی دروازے کھولے مگر اس جانب بڑھنے کے بجائے طالبان کی عبوری حکومت نے شدت پسندی کا انتخاب کیا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ افغانستان مسلسل ایک بھنور میں ہے‘ عوام سہولتوں سے محروم ہیں‘ پسماندگی کی کوئی انتہا نہیں اور سماجی سطح پر ترقی کے امکانات صفر ہیں۔ افغانستان آج بھی اسی خلا میں ہے جہاں طالبان کے سابقہ دور میں تھا۔اس صورتحال میں افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ حیران کن نہیں۔

اس طرح طالبان جو پاکستان یا دیگر ہمسایہ ممالک کیلئے سکیورٹی کے خدشات کو نظر انداز کرتے آئے ہیں بالآخر اسی جال میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔ افغانستان کیلئے آبرو مندانہ اور محفوظ راستہ یہی ہے کہ علاقائی و عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔یہی افغانستان کیلئے بہترہے۔ پاکستان بھی یہی چاہتاہے کہ دہشتگردی کے ابھرتے ہوئے خطرات ختم ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں