اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی کے داخلی اسباب

مسابقتی کمیشن کی جانب سے خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرائے غیر منصفانہ طور پر طے کرنے اور کاروبار کو آزادانہ مسابقت کے بجائے پرچی اور باری کے نظام کے تحت چلانے پر خوردنی تیل کی ٹینکر ایسوسی ایشن کو چھ کروڑ کا جرمانہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ملک میں مہنگائی کے ذمہ دار محض بیرونی عوامل نہیں بلکہ داخلی مسائل بھی ہیں۔ ٹینکرز مالکان کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے اضافے پر ٹرانسپورٹ کرایہ 0.75 فیصد جبکہ ایک روپے سستا ہونے کی صورت میں صرف 0.5 فیصد کمی کی جاتی‘ اس طرح چھ سال میں کرایوں کی مد میں کئی گنا تک ناجائز اضافہ کیا گیا۔

اس گٹھ جوڑ کا براہِ راست نتیجہ گھی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلا۔ یہ معاملہ واضح کر دیتا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ صرف عالمی منڈی یا پٹرولیم مصنوعات کے نرخ نہیں ہیں بلکہ نظام کے اندر موجود وہ لوپ ہولز بھی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں‘ جن کی اوٹ میں عوام کو بیدردی سے نچوڑا جا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے چور راستوں کا مستقل سدباب کیا جائے اور اجارہ داری سے مارکیٹ ریٹ پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کو جڑ سے اکھاڑپھینکا جائے۔ جب تک ان اندرونی کارٹلز کا خاتمہ اور لوپ ہولز کو بند نہیں کیا جائے گا تب تک عوام کو مہنگائی کے بھنور سے نجات دلانا ممکن نہیں ہو گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں