اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجلی کی مسابقت اور چیلنجز

حکومت کا بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ ابتدائی طور پر ایک میگا واٹ سے بڑے صارفین اس سہولت سے مستفید ہوں گے اور براہِ راست بجلی پیدا کرنیوالی کمپنیوں سے بجلی خرید سکیں گے جبکہ ترسیلی کمپنیاں وہیلنگ ماڈل کے تحت محض ترسیلی چارجز وصول کریں گی۔ بجلی کا وہ فرسودہ نظام‘ جس میں حکومت خود بجلی خرید کر صارفین کو بیچتی ہے‘نہ صرف مسائل کا انبار ثابت ہوا بلکہ اس نظام سے حکومت کو سوائے گردشی قرضوں کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اب بجلی پیدا کرنیوالے نجی کارخانوں اور بڑے صارفین کو براہِ راست لین دین کی اجازت دینا ایک خوش آئند فیصلہ ہے جس سے مارکیٹ میں صحتمند مسابقت پیدا ہوگی اور ڈوبتی ہوئی صنعتوں کو ایک سہارا میسر آ سکے گا۔

تاہم آئی پی پیز کو دیے جانیوالے کپیسٹی چارجز کے مسئلے کو حل کیے بغیر حکومت کا بجلی کی خریداری سے پیچھے ہٹنا ایک نامکمل فیصلہ ہے۔ دوسری طرف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کیلئے بھی یہ ایک امتحان ہے اور انہیں بدعنوانی‘ لائن لاسز اور بجلی چوری کا خاتمہ یقینی بنانا ہوگا تاکہ یہ سسٹم کامیاب ہو سکے۔ اگر اس پالیسی پر شفافیت کیساتھ عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف توانائی کے بحران کا پائیدار حل نکل سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی یہ ایک اہم موڑ ثابت ہو گا۔ اسکا دائرہ کار عام گھریلو صارفین تک بڑھانا حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جب تک عام شہری کو مسابقتی نرخوں پر بجلی خریداری کا حق نہیں ملتا‘ ایسی اصلاحات کے حقیقی ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں