دہشت گردوں کا تعاقب
سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع اور پاک افغان سرحدی علاقے میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کیخلاف کارروائیاں کرتے ہوئے خودکش بمباروں کے ایک تربیتی مرکز سمیت دہشتگردوں کے تین ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ ان کارروائیوں میں 37 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ کارروائی جمعہ کے روز کوہاٹ پولیس لائنز حملے میں افغانستان کے ملوث ہونے کے شواہد کے بعد عمل میں لائی گئی جس میں 25 افراد شہید ہوئے۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان میں جاری دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے بعد یہ ناگزیر ہو چکا تھا کہ ریاست ان دشمنوں کیخلاف مؤثر اقدامات کرے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے رواں ماہ اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ تین برس میں سرحد پار سے ہونیوالے حملوں کے نتیجے میں 4700 سے زائد پاکستانی سکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام کی رپورٹس کے مطابق 2022ء سے 2025ء تک تخریب کاری کی بڑی کارروائیوں اور خودکش حملوں میں 265 افغان شہری ملوث پائے گئے۔ گزشتہ برس (2025ء) دہشتگردی کے دس بڑے واقعات میں مارے گئے تمام 78 دہشت گرد افغان شہری تھے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی تیارہ کردہ اور سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹس بھی پاکستان کے افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات کی توثیق کرتے ہوئے یہ واضح کر چکی ہیں کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔

ان رپورٹس کے مطابق افغانستان میں موجود تربیتی مراکز میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ فتنہ الخوارج کے پاس چھ سے سات ہزار دہشتگرد ہیں‘ جنہیں امریکہ اور نیٹو فورسز کے چھوڑے ہوئے جدید ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے‘ اور اسی اسلحے نے ان کے حملوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ کیا ہے۔ 2020ء میں پاکستان میں دہشتگردی کے 193 واقعات رپورٹ ہوئے مگر اگلے برس‘ جب اگست میں طالبان نے کابل کا اقتدار سنبھالا‘ ان واقعات میں 38 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ 2022ء میں یہ اضافہ 36 فیصد‘ 2023ء میں 45 فیصد‘ 2024ء میں تقریباً 50 فیصد اور 2025ء میں 34 فیصد پہ پہنچ گیا۔ ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری تا اگست دہشت گردی کے 515 واقعات میں 819 افراد شہید ہو چکے۔ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی ذرائع سے اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن افغان عبوری حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی اور ان کیخلاف کارروائی سے گریز نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی بقا کی جنگ خود لڑے۔ اب پاکستان نے اپنے بین الاقوامی حقِ خود ارادیت کا استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح پیغام دیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے مسلح جتھے پاکستان میں داخل ہو کر معصوم لوگوں کو نشانہ بنائیں گے تو پاکستان انکے محفوظ ٹھکانوں کو وہیں تباہ کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن کی بحالی کا واحد راستہ اب یہی ہے کہ افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔
دوحہ معاہدے کی بنیادی روح یہی تھی کہ افغانستان کی سر زمین دنیا کے کسی بھی ملک کیخلاف دہشت گردی‘ حملوں یا مسلح گروہوں کی تنظیمِ نو کیلئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔اگر اب بھی کابل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھا گیا اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں پہ روک نہ لگائی گئی تو یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے‘ جسکی تمام تر ذمہ داری افغان انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ پاکستان ایک پُرامن ہمسایہ ملک کا خواہاں ہے لیکن اپنی بقا‘ سالمیت اور اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے وہ کسی بھی حد تک جانے کا عزم رکھتا ہے اور حالیہ کارروائیوں واضح اعلان ہیں کہ دہشت گردوں کا یہ تعاقب جاری رہے گا۔