سموگ کا موسم
فضائی آلودگی کے اشاریوں کے مطابق 22 ستمبر کو لاہور 171 ایئر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ دنیا کا آلودہ ترین شہر تھا۔ ہر سال کے آخری تین چار مہینوں میں لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع سموگ کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ اور اس آلودہ فضا میں سانس لینے والے شہری آنکھوں‘ گلے اور پھیپھڑوں کے امراض کے ساتھ ساتھ دل اور سانس کی سنگین بیماریوں کے خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین فصلوں کی باقیات جلانے‘ گاڑیوں کے دھویں‘ صنعتی اخراج‘ بھٹوں‘ تعمیراتی گردوغبار اور کوڑا کرکٹ جلانے کو آلودگی کے بڑے اسباب قرار دیتے ہیں۔ لاہور میں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا سبب ٹریفک اور گاڑیوں کا دھواں ہے‘ جس کا حصہ مختلف رپورٹس کے مطابق تقریباً 83 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ سموگ کے تدارک کیلئے سموگ گنز اور اس جیسے دیگر اقدامات کیساتھ ساتھ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔ جس طرح ٹریفک قوانین کی چھوٹی سی خلاف ورزی پر بھی بھاری چالان کیے جاتے ہیں‘ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے جائیں تاکہ ان کے مالکان اگر ماحولیاتی تحفظ کیلئے گاڑیوں کی بروقت سروس پر دھیان نہیں دیتے تو کم از کم جرمانوں سے بچنے کیلئے ہی دھیان دیں اور ٹریفک کی وجہ سے پھیلنے والی آلودگی کم ہو سکے۔