مکہ معاہدہ، پاکستان پر اعتماد
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری پاکستان کو ملنا ملکِ عزیز پر برادر ممالک کے اعتماد کی علامت اور اس اہم ترین سہ فریقی مشترکہ دفاعی معاہدے کو آپریشنل بنانے کی جانب ایک بڑی پیشرفت ہے۔ دفاعی معاہدے کا سیکرٹریٹ ریاض میں قائم کیا جائے گا اور اس اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کے لیے پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو منتخب کیا گیا ہے۔ پاکستان پر اس اعتماد کی وجہ اس کی دفاعی صلاحیت‘ طویل عسکری تجربہ‘ خطے میں بڑھتا ہوا سفارتی کردار اور سعودی عرب اور ترکیہ‘ دونوں کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات جیسے عوامل ہیں۔ سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے پاکستان کو ادارہ جاتی نظم‘ باہمی رابطہ کاری‘ مشترکہ دفاعی تعاون اور سیاسی عزم کو عملی شکل میں ڈھالنے کا بھرپور موقع ملے گا۔

دنیا کے لیے اس تقرری کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مکہ معاہدہ محض ایک اعلامیہ نہیں بلکہ ادارہ سازی کے مرحلے میں باقاعدہ طور پر داخل ہو چکا ہے۔ دفاعی معاہدے کے خدوخال واضح ہونے کے بعد اس اتحاد کو مزید وسعت دینے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے اور اگر دیگر علاقائی اور مسلم ممالک بھی اس اتحاد کا حصہ بنتے ہیں تو بلاشبہ یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا اور مؤثر دفاعی بلاک بن جائے گا‘ جو خطے میں توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے کے پاکستانی سیکرٹری جنرل کی موجودگی تین برادر ممالک کے مشترکہ دفاعی عزم کو مضبوط اور مؤثر ادارے میں ڈھالنے کا سبب بنے گی۔