مہنگائی اور معاشی نمو کے چیلنجز
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ’ ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک‘ میں پاکستان کی معیشت کیلئے محتاط نوعیت کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی شرحِ نمو مالی سال 2026ء میں 3.7 فیصد رہی اور مالی سال 2027ء میں بھی 3.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ حکومت کے بجٹ ہدف‘ 4 فیصد سے کم ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کیلئے سب سے اہم خدشات میں مہنگائی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ مالی سال 2026ء میں اوسط مہنگائی 7.1 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2027ء میں یہ بڑھ کر 8.3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ سٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف کی حد سے بھی زیادہ ہے۔ توانائی‘ خوراک‘ لاجسٹکس اور زرعی اجناس کی بڑھتی ہوئی لاگت مہنگائی پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔ تاہم ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے پاکستان کی معیشت میں بعض مثبت پیشرفتوں کا ذکر بھی کیا ہے‘ مثال کے طور پر مالی سال 2026ء میں صنعت اور خدمات کے شعبوں میں بہتری آئی جبکہ زراعت نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باوجود 2.9 فیصد نمو حاصل کی‘ نجی سرمایہ کاری میں بھی 8.6 فیصد اضافہ ہوا۔

علاوہ ازیں زرِمبادلہ کے ذخائر میں بہتری‘ سرمائے کی عالمی منڈیوں تک دوبارہ رسائی اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو معاشی استحکام کیلئے مثبت عوامل قرار دیا گیا ہے۔تاہم مشرقِ وسطیٰ کا تنازع پاکستانی معیشت کیلئے ایک بڑا بیرونی خطرہ ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل اور مہنگائی میں توقع سے زیادہ اضافے کا سبب بن رہا ہے جبکہ خلیجی ممالک میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے ترسیلاتِ زر پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں کمی‘ عالمی مالیاتی حالات میں سختی‘ موسمیاتی اثرات اور توانائی و سرکاری اداروں کی اصلاحات میں تاخیر بھی خطرات میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب کچھ پیشرفت ضرور کی ہے لیکن تیز رفتار اور پائیدار ترقی کیلئے اصلاحات کا تسلسل‘ مہنگائی پر قابو اور بیرونی جھٹکوں سے تحفظ اب بھی بنیادی چیلنج ہیں۔ پاکستان جیسا ملک‘ جو خام مال سے لے کر پٹرولیم مصنوعات اور مشینری تک‘ سب کچھ باہر سے منگواتا ہے‘ کیلئے مشرق وسطیٰ کا بحران اور تجارتی گزرگاہوں میں رکاوٹیں دہری تشویش کا باعث ہیں۔
ایک جانب عالمی منڈی میں جہاز رانی کے کرایوں اور انشورنس کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر درآمدی بل پر پڑے گا‘ اسکے نتیجے میں تجارتی خسارہ مزید وسیع ہونے اور روپے کی قدر پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب درآمدی اشیا مہنگی ہونے سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ لہٰذا یہ خدشہ حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر عالمی سپلائی چین کے حالات سازگار نہ ہوئے تو کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس دوبارہ بگڑ سکتا ہے جو آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے پاکستان کے داخلی معاشی مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے محصولات میں کمی اور سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات میں غیر معمولی تاخیر کو بڑے چیلنجز قرار دیا ہے۔ سرکاری ملکیتی اداروں کا خسارہ مالی سال 2025ء میں 832 ارب روپے سے زائد رہا۔ ان اداروں کی نجکاری اور اصلاحات میں تاخیر قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ وہ سٹرکچرل خرابیاں ہیں جنہیں دور کیے بغیر معیشت کو دلدل سے نہیں نکالا جا سکتا۔
یہ درست کہ بیرونی حالات یا عالمی منڈی کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا لیکن داخلی اصلاحات مکمل طور پر حکومت کے دائرہِ اختیار میں ہیں۔ اگر بیرونی جھٹکوں اور انکے خدشات کو محدود کرنا ہے تو داخلی پالیسیوں کو سدھارنا ہوگا۔ معاشی ترقی کا استحکام سخت داخلی اصلاحات سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر اب بھی مصلحت پسندی سے کام لیا گیا اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تاخیر کی گئی تو عبوری معاشی بحالی کا یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔