گلوف کے خطرات
سپارکونے شمالی علاقہ جات میں گلیشیرز پگھلنے سے گزشتہ دو ماہ کے دوران60 سے زائد جھیلیں بننے کی نشاندہی کی ہے۔ پاکستان بھی عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا‘ اور یہاں گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔اگر ان جھیلوں کے برف‘ چٹانوں اور ملبے سے بنے قدرتی بند کمزور پڑ گئے تو یہ جھیلیں پھٹنے سے خوفناک تباہی آ سکتی ہیں۔ اگست میں نیپال میں گلیشیر کے انہدام اور اس سے پیدا ہونے والے تباہ کن سیلاب نے ثابت کردیا کہ ہمالیائی خطے میں یہ خطرہ کسی قدر سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں تقریباً 17لاکھ افراد گلوف کے خطرات سے دوچار ہیں‘ لہٰذا حکومت کو بلاتاخیران گلیشیائی جھیلوں کی مانیٹرنگ کا خصوصی نظام قائم کرنا چاہیے جس کے تحت نہ صرف ان جھیلوں اور گلیشیرز کی مسلسل نگرانی یقینی بنائے جائے بلکہ ممکنہ طور پر متاثرہ تمام وادیوں میں جدید ارلی وارننگ سسٹم کی بلاتاخیر تنصیب اور اسے فعال رکھنے کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ گوکہ گلیشیرز کے پگھلنے کی رفتار کو روکنا حکومت کے اختیار میں نہیں ‘مگر اس کے نتیجے میں ہونے والی ممکنہ تباہی کو روکنے کیلئے بروقت تیاری حکومت کی ذمہ داری ہے۔