ٹیکس کا بوجھ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تنخواہ دار طبقے نے 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ اسی مدت میں ہول سیلرز ‘ ریٹیلرز اور رئیل اسٹیٹ کی مجموعی ٹیکس ادائیگی صرف 54 ارب روپے رہی۔ تنخواہ دار طبقے کی تنخواہ سے ٹیکس براہِ راست منہا کر لیا جاتا ہے‘ اس لیے اس طبقے کیلئے ٹیکس سے بچنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے لیکن دوسرے شعبوں کیلئے آمدنی چھپانے کے ذرائع موجود ہیں جبکہ اس لیے وہ ٹیکس چھپاتے ہیں اور ایف بی آر ان کے معاملے میں ضروری اقدامات نہیں کرتا۔ ہول سیلرز ‘ ریٹیلرز اور رئیل اسٹیٹ سمیت معیشت کے کئی ایسے شعبے ہیں جہاں آمدن کا حجم زیادہ ہونے کے باوجود ٹیکس وصولی ان کی حقیقی معاشی سرگرمی سے مطابقت نہیں رکھتی۔

حکومت کو ایسا منصفانہ ٹیکس نظام متعارف کرانا چاہیے جس میں ہر فرد اور شعبہ اپنی آمدن کے مطابق اپنا حصہ ادا کرے۔ اس مقصد کیلئے رئیل اسٹیٹ‘ تجارت‘ ہول سیل اور ریٹیل کے کاروبار کو مؤثر طور پر دستاویزی بنانا‘ ڈیجیٹل لین دین اور پوائنٹ آف سیل نظام کی سخت نگرانی‘ ٹیکس گوشواروں اور حقیقی کاروباری سرگرمیوں میں فرق کا سراغ لگانا اور بڑے ٹیکس چوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ ٹیکس نیٹ میں وسعت‘ ٹیکس چوری کے خاتمے اور تمام شعبوں کیلئے قوانین کے یکساں نفاذ کے بغیر محصولات میں اضافہ ممکن نہیں۔