اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مذاکرات کی بحالی ناگزیر

پاکستان اس وقت ایسے سیاسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف احتجاج کی سیاست گرم ہے تو دوسری طرف ملکی معیشت اور امنِ عامہ کا استحکام داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اس تناظر میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت ایک مثبت پیشرفت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپوزیشن احتجاجی سیاست سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ادراک کرتے ہوئے پہلے لانگ مارچ ختم کرے‘ پھر حکومت مذاکرات کرے گی۔ گزشتہ روز وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ  نے بھی حکومت کی آفر کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں‘ تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومتی ارکان سے رابطے میں ہیں اور کوشش ہے کہ مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔ دیکھا جائے تو یہی وہ راہ ہے جو سیاسی بحران سے باہر نکال سکتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی مسائل کبھی بھی طاقت‘ دھونس یا بلیک میلنگ سے حل نہیں ہوتے بلکہ انکا پائیدار حل مفاہمت‘ مشاورت اور باہمی تعاون سے نکلتا ہے۔ موجودہ سیاسی تناظر میں حکومت کے علاوہ اپوزیشن کے سنجیدہ حلقوں کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ مسائل کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ میز پر بیٹھ کر ہی نکلے گا‘ لہٰذا اپوزیشن کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کی آفر کا مثبت جواب دے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھائے۔ سیاسی تلخی کی موجودہ فضا کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہ معاملہ سب پر عیاں ہے کہ اس کھینچا تانی سے نہ تو حکومت کی بقا کو کوئی خطرہ لاحق ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو اس کے تمام مطالبات طشتری میں رکھ کر پیش کیے جائیں گے بلکہ اسکا نتیجہ صرف اور صرف عوامی مشکلات اور ملکی معیشت کی مزید ابتر صورتحال کی صورت میں سامنے آئے گا۔ سیاست میں حکمتِ عملی اور تدبر کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اپوزیشن کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی عوامی تحریک یا احتجاج کی طاقت کو حکومت سے ٹکرانے کے بجائے بارگیننگ کیلئے استعمال کرے تو زیادہ سیاسی فائدے حاصل کر سکتی ہے۔ سیاست جلد بازی کا کھیل نہیں ہوتا بلکہ یہ لمبی دوڑ ہوتی ہے‘ لہٰذا ضروری نہیں کہ اپنے تمام پتے ایک ساتھ شو کر دیے جائیں۔

کئی بار طاقت کا بھرپور استعمال کرنے کے بجائے اس کا علامتی اظہار ہی مخالف فریق کو دباؤ میں لانے اور مطالبات تسلیم کروانے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ اپوزیشن بھی نظم ریاست کا حصہ ہے‘ لہٰذا اس کے احتجاج کا مقصد ریاست کے معاشی و انتظامی پہیے کو روکنا نہیں بلکہ اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کر کے مذاکرات کی میز پر اپنے مطالبات کو تسلیم کرانا ہونا چاہیے اور حکومت کی جانب سے مذاکرات کی آفر سے وہ اپنا یہ مقصد حاصل کر چکی ہے۔ اب مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف بڑھنا چاہیے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ابتدائی طور پر جن چند نکات پر اختلاف پایا جاتا ہے‘ اگر مذاکراتی عمل جاری رہے تو رفتہ رفتہ ان کا بھی کوئی نہ کوئی قابلِ قبول حل نکل آتا ہے۔ بڑی سے بڑی جنگوں کا حل بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی نکلتا ہے جبکہ ہمارے اربابِ سیاست کے مسائل عالمی سیاسیات کے مقابل نہایت معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس وقت بدلتے علاقائی جغرافیائی و سیاسی حالات اور مہنگائی کا مسئلہ ملک بھر کے عوام کا اولین مسئلہ ہیں۔

اگر احتجاج کا سلسلہ پھیلتا ہے تو حکومتی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے گی۔ نتیجتاً عوامی مشکلات اورسماجی بے چینی میں مزید اضافہ گا۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ معیشت‘ معاشرت اور سیاست کے الجھے ہوئے دھاگوں کوسلجھانے پر فوری توجہ دی جائے اور سیاسی اختلافات کو ختم کرنا اس وقت کا اولین تقاضا ہے۔ یہ حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں کے سیاسی وژن کا امتحان ہے کیونکہ بات چیت میں تاخیر کا مطلب یہ ہو گا کہ سیاسی قیادت ملک کو مسائل کی اس دلدل میں پھنسائے رکھنا چاہتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں