بڑھتی ہوئی غربت
ورلڈ بینک کی MENAP خطے‘ جس میں مشرقِ وسطیٰ‘ شمالی افریقہ‘ افغانستان اور پاکستان سمیت 20 سے زائد ممالک شامل ہیں‘ کیلئے جاری کردہ اکنامک آؤٹ لک کے مطابق خطے میں یومیہ تین ڈالر سے کم آمدن والے انتہائی غریب افراد میں 48 فیصد پاکستان میں ہیں‘ اور 2019ء سے 2024ء کے دوران ملک میں غربت کی شرح 6.4 فیصد بڑھی ہے۔ رپورٹ میں ملک میں غربت میں اضافے کا ذمہ دار کورونا‘ 2022ء کے سیلاب‘ مہنگائی‘ روپے کی قدر میں کمی اور معاشی بحران کو ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ آفات اور قدرتی عوامل اپنی جگہ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اس دوران حکومتوں کی جانب سے ایسے معاشی اقدامات نہیں کیے گئے جو غریب خاندانوں کی آمدنی اور پیداواری صلاحیت بڑھا سکتے۔

حکومت کا سارا زور غربت کے بنیادی اسباب سے نمٹنے کے بجائے عوام سے زیادہ سے زیادہ محصولیاں کرنے پر ہے۔ورلڈ بینک کی اس رپورٹ کے بعد موجودہ حکومت پر بدرجہ اتم یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تخفیف غربت کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔ اس مقصد کیلئے حکومت کی جانب سے نقد امداد کے پروگرام کافی نہیں بلکہ ایسے اقدامات بھی ناگزیر ہیں جو لوگوں کو مالی خود انحصاری کی طرف لے کر جائیں۔ اس ضمن میں چین سے سیکھنا چاہیے جہاں غربت کو مستقل طور پر کم کرنے کیلئے زرعی اصلاحات‘ صنعت‘ برآمدات‘ انفراسٹرکچر اور روزگار کے ذریعے لوگوں کی آمدنی بڑھائی گئی۔ یہاں صورتحال اسکے برعکس ہے‘ نتیجتاً غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔