اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تعلیمی سکالرشپ فراڈ

اسلام آباد میں گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی خودکشی کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور سکالرشپ کے نام پر لاکھوں روپے کے فراڈ کا شکار ہونے کے بعد‘ ہونہار طالبہ نے دلبرداشتہ ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ فراڈ کا مرکزی ملزم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آ چکا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ انتظامیہ کارروائی کیلئے کسی سانحے کی منتظر کیوں رہتی ہے؟ تعلیمی کنسلٹنسی کی آڑ میں فراڈ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ‘ اسلام آباد اور سیالکوٹ سے سٹوڈنٹ ویزا فراڈ کیس میں کئی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ملک بھر میں سینکڑوں غیر رجسٹرڈ ایجنٹس متحرک ہیں جو طلبہ کو بیرونِ ملک داخلے کا جھانسہ دے کر سالانہ کروڑوں روپے ہڑپ کر جاتے ہیں۔

یورپی اور امریکی سٹوڈنٹ ویزوں کے کڑے معیار نے ان فراڈیوں کیلئے مزید سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے اور یہ طلبہ کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر جعلی دستاویز کا سہارا لیتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ نہ صرف ایف آئی اے ایسے فراڈ تعلیمی ایجنٹس کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کرے بلکہ ایچ ای سی کو بھی چاہیے کہ وہ منظور شدہ کنسلٹنٹس کی فہرست کو عام کرے اور ایک آن لائن پورٹل بنایا جائے جہاں پہ ایڈمیشن لیٹرز کی تصدیق کی جا سکے۔ حکومت کو اس کیس کو ایک ٹیسٹ کیس بنانا ہو گا تاکہ آئندہ کوئی بھی دھوکے باز کسی طالبعلم کے مستقبل اور اس کی زندگی سے کھیلنے کی جرأت نہ کر سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں