پولیو کا چیلنج برقرار
پنجاب ایمرجنسی آپریشن سنٹر کی جانب سے صوبے میں ستمبر کے آخری ہفتے میں منعقدہ پولیو مہم کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور پولیو قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں قطرے پلانے کیلئے 11اضلاع میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان ٹیموں کو یونین کونسل کی سطح پر مہم کی کارکردگی جانچنے‘ اعداد و شمار کی درستی اور شفافیت یقینی بنانے‘ ویکسین کے استعمال اور ضیاع کی نگرانی بہتر کرنے اور فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کی اصل اہمیت اُس وقت سامنے آئے گی جب ان ہدایات پر عملدرآمد ہو گا۔ملک میں پولیو کے خاتمے کیلئے گزشتہ تین دہائیوں سے جاری کوششوں کے باوجود اس موذی مرض سے مکمل نجات حاصل نہ کر پانا لمحہ فکریہ ہے۔ رواں سال اب تک پولیو کے چھ کیسز سامنے آ چکے ہیں‘ جن میں پانچ خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئے۔

خیبرپختونخوا میں بھی پولیو کے حوالے سے ہائی رِسک اضلاع میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر قطروں سے محروم بچوں کی نشاندہی‘ ویکسی نیشن کی تصدیق اور مہمات کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جانا چاہیے۔ والدین میں آگاہی پیدا کرنے اور پولیو ورکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ پولیو کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ والدین اور معاشرے کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔