گورنر راج اور ایمرجنسی
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اس فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اس اقدام کی منظوری دی ہے جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر خیبر پختونخوا کو منتقل ہو گئے۔ وفاقی حکمنامے کے تحت گورنر وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گے‘ انہیں گیارہ رکنی مشاورتی کونسل کی معاونت حاصل ہو گی۔ گزشتہ روز مشاورتی کونسل کے پہلے اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون اور مؤثر تجاویز کے ذریعے صوبے کو درپیش مسائل کے حل اور عوام کی بہتری کیلئے کردار ادا کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کئی برسوں سے دہشت گردی‘ بدامنی اور سکیورٹی کے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ مارچ 2024ء اور ستمبر 2026ء کے درمیان خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔

ایسے حالات میں اگر صوبائی حکومت بھی اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے تو ریاست کو شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے آگے آنا تھا۔ انہی حالات کو تصور میں رکھتے ہوئے آئین پاکستان کے خالقوں نے آئین میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی گنجائش رکھی تاکہ ریاست کے اندر بگاڑ پیدا ہونے سے روکنے کیلئے ریاست ضروری اقدامات کر سکے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ان مسائل کا پائیدار حل ثابت ہو گا؟ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی تھی‘ لیکن گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کو وہ فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے جن کے اثرات خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی کی صورت میں سامنے آئیں۔ کسی صوبے میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے اور صوبائی حکومت کا وفاق کے ساتھ مؤثر تعاون نہ ہو تو ریاستی رٹ کی بحالی کیلئے وفاقی حکومت مداخلت کر سکتی ہے‘ تاہم ناقدین یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرنے سے جمہوری عمل کمزور ہوگا اور سیاسی اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہے کہ خیبر پختونخوا کیلئے اس غیر معمولی فیصلے کا سب سے اہم امتحان اس کے عملی نتائج ہوں گے۔ اگر گورنر راج کے دوران دہشتگردی میں کمی‘ شہریوں کے تحفظ میں بہتری‘ پولیس کی استعداد میں اضافے اور انتظامی نظم ونسق کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جاتے ہیں تو اس فیصلے کی افادیت کو ثابت کرنے کیلئے کسی دوسری دلیل کی ضرورت نہیں ہو گی۔ دہشتگردی کے خلاف کامیاب اور نتیجہ خیز کارروائیوں کیلئے مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا‘ متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامی مشینری دہشتگردی کے اشاریوں میں کمی یقینی بنائے۔ کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا انحصار قانون کی حکمرانی‘ عوامی اعتماد اور جمہوری اداروں کے استحکام پر ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں امن کا قیام قومی ضرورت ہے‘ لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے آئینی ضمانتوں اور شہری حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کی کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں ہو گا کہ اختیارات کس کے ہاتھ میں ہیں بلکہ یہ کہ ان اقدامات سے دہشت گردی میں کس حد تک کمی آئی اور عوام کے تحفظ اور جمہوری نظام کی مضبوطی میں کیا پیشرفت ہوئی۔ پاکستان کو ایسی حکمت عملی درکار ہے جو امن بھی قائم کرے‘ آئین کی بالادستی بھی برقرار رکھے اور وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کو تقویت بھی دے۔