اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

فنی مہارتوں کی صورتحال

ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل فیوچر لیڈرز کے سالانہ اجلاس میں پیش کردہ کیس سٹڈی کے مطابق پاکستان میں صرف سات فیصد نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں تک رسائی حاصل ہے ‘جبکہ علاقائی اوسط 22فیصد ہے۔ کیس سٹڈی کے مطابق پاکستان میں 15سے 29سال کی عمر کے تقریباً ایک تہائی نوجوان نہ رسمی تعلیم حاصل کر رہے ہیں‘ نہ کسی فنی تربیتی پروگرام میں شامل ہیں اور نہ ہی برسرِ روزگار ہیں۔ یعنی آبادی کا وہ بڑا حصہ جو ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے‘ حکومتی عدم توجہی کے باعث معاشرے کیلئے بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ ملکِ عزیز میں طویل عرصے سے کامیابی کو صرف ڈگری کے حصول سے جوڑا جاتا رہا ہے جبکہ صنعت‘ تجارت اور جدید خدمات کے شعبوں کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے‘ حالانکہ ان شعبوں میں بھی باصلاحیت افرادی قوت درکار ہوتی ہے لیکن انہیں مطلوبہ مہارتوں کے حامل کارکن میسر نہیں آتے۔

حکومت کو چاہیے کہ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو قومی تعلیمی و معاشی پالیسی کا بنیادی حصہ بنائے۔ ہر ضلع میں مقامی صنعتوں اور روزگار کی ضروریات کے مطابق جدید تربیتی مراکز قائم کیے جائیں۔ اسی طرح نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت‘ کمپیوٹر پروگرامنگ اور سائبر سکیورٹی سے متعلق مہارتیں سکھانا بھی ضروری ہے تاکہ نوجوان معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے ملک کی معاشی طاقت بن سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں