اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

صائب تجویز

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی تجویز نے ملکی سیاست میں جمود کو توڑنے اور سیاسی ہیجان کو کم کرنے کی امید پیدا کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے اور یہ تجویز نہ صرف بروقت ہے بلکہ ملک کو سیاسی بحرانوں کی دلدل سے نکالنے کا واحد منطقی راستہ بھی ہے۔ اگرچہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور اور ایمرجنسی کے نفاذ اور گزشتہ روز دونوں ایوانوں سے اس صدارتی فیصلے کی توثیق سے حکومت اور اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی کے مابین بڑی خلیج حائل نظر آتی ہے مگر سیاست میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ مفاہمت‘ مذاکرات اور بات چیت کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ سیاسی سوجھ بوجھ کا تقاضا یہی ہے کہ جب قومی سلامتی کا معاملہ درپیش ہو تو ذاتی اور سیاسی اَنا کو پسِ پشت ڈال کر وسیع تر قومی مفاد کو اولیت دی جائے اور محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کا راستہ چنا جائے۔ موجودہ صورتحال کا عمیق جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو تی ہے کہ ملک کے معاشی‘ سماجی اور سکیورٹی مسائل کی سنگینی کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک معاشی اور سماجی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک وہاں سیاسی ہیجان برپا ہو۔

سرمایہ کار‘ خواہ وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی‘ ایسے ماحول میں سرمایے کا تحفظ محسوس نہیں کرتے جہاں سیاسی محاذ آرائی کا ماحول حاوی رہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کی توجہ اصل خطرات سے ہٹ کر داخلی سیاسی لڑائیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس تناظر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف حتمی کامیابی اُس وقت حاصل کی تھی جب دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک سکول پشاور کے المناک سانحے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اختلافات کو بھلا کر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی تھی۔ اسی سیاسی اتفاقِ رائے کا نتیجہ تھا کہ ملک سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ ممکن ہوا اور سکیورٹی اداروں کو یکسوئی میسر آئی۔ آج جب ملک کو دوبارہ اسی نوعیت کے خطرات اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے علاوہ داخلی سہولت کاری کا بھی سامنا ہے تو اس کا مقابلہ ہمہ جہت حکمت عملی سے کرنا ہو گا جس میں ایک متفقہ سیاسی بیانیہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مشغول رہیں گے‘ ملک دشمن سیاسی خلا کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

دنیا بھر کے جمہوری نظاموں میں معیشت‘ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر ایک اتفاقِ رائے اور سیاسی اجماع پایا جاتا ہے۔ پاکستان کو بھی ایسے اتفاقِ رائے اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن مل کر سکیورٹی پالیسی اور معاشی روڈ میپ پر متفق ہو جائیں تو نہ صرف موجودہ پالیسیوں کے نتائج زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے بلکہ حکومتی کارکردگی اور فیصلوں کی ساکھ میں بھی اضافہ ہو گا۔ موجودہ دور میں کوئی بھی جماعت تنِ تنہا ملکی چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتی‘ سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ سیاسی ہم آہنگی سے نہ صرف عوام کا جمہوریت پر اعتماد بحال ہو گا بلکہ عالمی برادری کو بھی سیاسی نظام کی مضبوطی اور مالیاتی پالیسیوں کے استقرار کا پیغام جائے گا۔ اس وقت سیاسی درجہ حرارت کو اعتدال میں لانا اپوزیشن کے علاوہ خود حکومت کی بھی بڑی ضرورت ہے۔

اسکے بغیر معاشی اصلاحات کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکتے۔ اقتدار کی طاقت حکومت کے پاس ہوتی ہے‘ اسلئے ماحول کو پُرامن بنانے اور بات چیت کی دعوت دینے میں بھی حکومت کو پہل کرنی چاہیے۔ بلاول بھٹو نے دوبارہ مذاکرات کی صائب تجویز دے کر ایک مدبرانہ سیاسی مؤقف اپنایا ہے۔ اب فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کو کرنا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں