اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

فضائی آلودگی کا مسئلہ

حالیہ چند ہفتوں کے دوران لاہور متعدد بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست رہا ہے۔ منگل کے روز بھی ایئر کوالٹی انڈیکس 190پارٹیکیولیٹ میٹر ہونے کی وجہ سے اسے دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار دیا گیا۔پنجاب انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کے آفیشل اے کیو آئی ڈیش بورڈ کے مطابق بدھ کوبھی شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 189پارٹیکیولیٹ میٹر تھا۔ فضا میں موجود یہ زہریلے ذرات پھیپھڑوں اور خون کی شریانوں میں داخل ہوکر فالج‘ امراضِ قلب‘ پھیپھڑوں کے کینسر اور سانس کے انفیکشن بشمول نمونیا جیسی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔لیکن فضائی آلودگی سے مسلسل متاثر ہونے کے باوجود لاہور میں گزشتہ چار سال سے میاواکی جنگل کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں ہو سکا جبکہ اربن فاریسٹ کیلئے مختص مقامات پر بھی شجرکاری نہیں ہو سکی۔ لنگر آف لاہور منصوبے کے تحت راوی کے دونوں اطراف 800 اراضی پر شجرکاری ہونا تھی تاہم اب تک صرف 20 ایکڑ پر پودے لگائے جا سکے ہیں۔

فضائی آلودگی ایسا مسئلہ نہیں جس پر چند دنوں یا ہفتوں میں قابو پایا جا سکے بلکہ اسکے تدارک کیلئے سالہا سال کی محنت درکار ہے جو ہمارے ہاں عنقا ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت  فضائی آلودگی کے تدارک کیلئے اپنی کاوشیں مخصوص مہینوں تک محدود کرنے کے بجائے سارا سال اس حوالے سے متحرک رہے۔ اس ضمن میں دھواں چھوڑنے والی صنعتوں اور گاڑیوں کی بندش کیساتھ ساتھ شجر کاری کے فروغ پر بھی توجہ دینی چاہیے‘ ہمہ جہت حکمتِ عملی ہی سے فضائی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں