غربت، سنگین مسئلہ
آج دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ یو این ڈی پی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 38.3فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت کی رپورٹ بھی اس بحران کی سنگینی واضح کرتی ہے جسکے مطابق ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی مالی سکت کھو چکی ہے۔ ان حالات میں حکومت کو چاہیے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے محض امدادی رقوم کی تقسیم جیسے اقدامات پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کیلئے ایسا معاشی اور سماجی ڈھانچہ قائم کرے جو شہریوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے مواقع فراہم کرے۔ چین کی مثال اس ضمن میں غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے جس نے چار دہائیوں میں تقریباً 80 کروڑ افراد کو انتہائی غربت سے باہر نکالا ہے۔

اس کامیابی کے پیچھے صنعتی ترقی‘ زرعی اصلاحات‘ روزگار کے مواقع‘ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور انسانی ترقی پر مسلسل توجہ جیسے عوامل کارفرما تھے۔ بنگلہ دیش نے بھی حالیہ برسوں میں غربت میں نمایاں کمی کی ہے جس میں زرعی شعبے‘ محنت کشوں کی آمدن اور سماجی ترقی نے کردار ادا کیا ہے۔ ہمیں بھی روزگار کی فراہمی‘ صنعتی پیداوار میں اضافے‘ چھوٹے کاروباروں کی سرپرستی‘ زرعی شعبے کی جدید کاری اور نوجوانوں کی فنی تربیت کو ترجیح دینا ہو گی۔