اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

انتظامی بحران کا حل

ملکِ عزیز جن سنگین مسائل سے دوچار ہے ان میں بدانتظامی‘ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم‘ تعلیمی پسماندگی‘ صحت کی ناقص سہولتیں‘ کمزور نظامِ انصاف اور علاقائی محرومیوں کے مسائل نمایاں ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ روز پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز اکیڈمی میں زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر نے جن خیالات کا اظہار کیا ان میں ملک کے ان مسائل کا حل موجود ہے۔یہ حقیقت ظاہر و باہر ہے کہ بحیثیت قوم ہماری ترقی کی رفتار ہماری صلاحیتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پاکستان کا جغرافیہ‘ رقبہ‘ موسم‘ آبادی ‘ سبھی عوامل بے مثال ہیں۔ یہ اجزا کسی بھی قوم اور ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانے کے بنیادی عناصر سمجھے جاتے ہیں‘ مگر ہمارے ہاں یہ عناصر مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کرپا رہے۔ ہماری معاشی سست روی کے اسباب گوناگوں ہیں مگر ان کا نقطہ آغاز وہ انتظامی بحران ہے جو صوبوں کے غیر معمولی حجم کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے شائع کیے گئے ایک آرٹیکل میں اس حوالے سے لکھا گیا کہ 1951ء سے پاکستان کی آبادی میں سات گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے مگر 26کروڑ کے قریب آبادی اب بھی انہی چار انتظامی صوبوں میں رہتی ہے جن میں باہم کوئی مطابقت نہیں۔

انتظامی حدود اس کا تعین کرتی ہیں کہ حکومتیں محصولات کیسے جمع کرتی ہیں‘ عوامی فنڈز کیسے تقسیم کرتی ہیں‘ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کیسے کرتی ہیں‘ ہنگامی حالات کا مقابلہ کیسے کرتی ہیں اور کارکردگی کو کیسے جانچتی ہیں۔ جب انتظامی نقشے آبادی اور معیشت کی بدلتی حقیقتوں سے مطابقت کھو دیتے ہیں تو حکمرانی کے مسائل شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ جب تک اس ساختی خرابی کو دور نہیں کیا جاتا معاشی ترقی کی رفتار میں مطلوبہ تیزی ممکن نہیں۔ عالمی بینک اور ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹوں میں یہ نکتہ واضح طور پر بیان کیا جا چکا ہے کہ پاکستان میں وسائل کا رخ صوبائی دارالحکومتوں اور چند بڑے شہروں پر مرکوز ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فی کس صوبائی اخراجات تقریباً 31 ہزار روپے ہیں‘ جبکہ دیگر سبھی اضلاع میں سات ہزار روپے فی کس۔ جو علاقہ صوبائی دارالحکومت یا مرکز سے جتنا دور ہے وہاں ترقی‘ صحت‘ تعلیم اور انفراسٹرکچر کی صورتحال اتنی ہی پسماندہ ہے۔ اس طرح دیو ہیکل صوبوں میں مسائل کا انبار بڑھتا جا رہا ہے۔ سکول سے باہر بچوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے‘ بچوں میں سٹنٹنگ کی شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بھوک‘ غربت اور بیروزگاری خطے میں بلند ترین سطح پر ہے۔ ان اعداد وشمار کے تناظر میں یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ ہمارا قومی مستقبل کیا ہو گا۔

اب سوال محض اتنا ہے کہ ہم اب بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے یا ان مسائل کے حل کی جانب عملی قدم اٹھائیں گے۔ دنیا کے کئی ممالک کو ہمارے جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے انتظامی یونٹس کو مختصر رکھنے اور اختیار اور اقتدار کو عوامی دہلیز تک پہنچا کر مسائل کا حل نکالا۔ ہم اس عمل سے گریزاں کیوں ہیں؟ ہمارے تمام بڑے معاشی‘ سماجی‘ انتظامی اور سیاسی مسائل کا پائیدار حل چھوٹی انتظامی اکائیوں کی تشکیل اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام میں مضمر ہے۔ عالمی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی یہی حل تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان کو اب چار صوبوں کے جمود کو توڑکر ملک کو خالص انتظامی بنیادوں پر چھوٹے یونٹس میں تقسیم کرنا ہو گا۔ جب اقتدار اور فنڈز براہِ راست عوام کی دہلیز تک پہنچیں گے تو دور دراز کے محروم اضلاع بھی خود کفالت اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ گورننس کی بہتری اور معاشی استحکام کی خاطر بڑے صوبوں کی روایت کو خیرباد کہہ کر مرکزیت کا جمود توڑا جائے‘ وگرنہ پسماندگی‘ غربت اور محرومی کی یہ خلیج وقت کے ساتھ ساتھ مزید وسیع ہوتی چلی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں