اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آٹا بحران

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق کراچی کے شہری ملک بھر میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں‘ جہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ کراچی ہی نہیں‘ ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں آٹے کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3480‘ اسلام آباد میں 3373‘ راولپنڈی میں 3333‘ پشاور میں 3300‘ کوئٹہ میں 3220 اور سیالکوٹ میں 3133 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ آٹا بحران کی بڑی وجوہات میں ذخیرہ شدہ گندم کی مارکیٹ سپلائی میں رکاوٹیں‘ مہنگی بجلی اور ڈیزل کی وجہ سے پسائی اور ترسیل کے بلند اخراجات‘ گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری وغیرہ شامل ہیں۔رواں سال ملک میں 29ملین ٹن سے زائد گندم پیدا ہوئی جبکہ ایک ملین ٹن گندم بیرونِ ملک سے بھی درآمد کی جا رہی‘ اور یہ تمام ذخائر ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔

آٹا بحران پر قابو پانے کیلئے ایک مستقل پالیسی بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئندہ گندم سیزن کیلئے‘ جس کا آغاز 15 اکتوبر سے ہو چکا ہے‘ بلاتاخیر گندم کی پُر کشش امدادی قیمت کا اعلان کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان گندم کی کاشت کی طرف راغب ہوں اور گندم کی بمپر فصل حاصل کی جا سکے۔ نیز گندم کی خریداری اور ذخیرہ کاری کے حوالے سے بھی پائیدار اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ عوام کی بنیادی غذا کا معاملہ ہے‘ اسے ہر سال نئے تجربے کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں