ڈینگی اور انتظامی غفلت
لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈینگی کے خطرات بدستور برقرار ہیں اور اس مرض کے کیسزمیں اضافہ ہو رہا۔ ایک خبر کے مطابق رواں سیزن صوبے میں ڈینگی کے 250 سے زائد تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں‘ جن میں 84 کیس رواں ماہ سامنے آئے ہیں۔ سب سے زیادہ کیس لاہور اور راولپنڈی سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ڈینگی کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں انتظامی غفلت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ ہفتے لاہور میں 30 ہزار سے زائد ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی جہاں انتظامی چشم پوشی کا ثبوت ہے وہی اس امر کی متقاضی بھی ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے انسدادی اقدامات کی رفتار اور مؤثریت کا جائزہ لیا جائے۔

پاکستان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے ڈینگی کے مسئلے سے نبرد آزما ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں شہری اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسی جامع حکمت عملی اپنائیں جو صرف کیسز سامنے آنے کے بعد حرکت میں آنے کے بجائے بیماری کے پھیلاؤ سے پہلے خطرات کا تدارک کرے۔ اس مقصد کیلئے مچھر مار مہم تیز کرنے‘ متاثرہ اور حساس علاقوں میں بروقت فیومیگیشن‘ ہاٹ سپاٹس کی مسلسل نگرانی اور لاروا کی افزائش روکنے کے اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی۔ گلی محلوں میں نکاسی آب کے ناقص نظام کے باعث جمع ہونے والے پانی کی فوری نکاسی بھی ناگزیر ہے۔