کثیر الجہتی غربت ،اسباب اور خدشات
اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے(UNDP) کی جانب سے کثیرالجہتی غربت انڈیکس (MPI)کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی صحت‘ تعلیم اور معیارِ زندگی کی محرومیوں کا شکار ہے جبکہ مزید12.9 فیصد آبادی کثیرجہتی غربت کے خطرے سے دوچار ہے۔ کثیرجہتی غربت محض آمدنی کی کمی کا نام نہیں بلکہ اس سے مراد زندگی کی بنیادی ضروریات اور سہولتوں سے محرومی ہے۔ کسی خاندان کی آمدنی بظاہر مناسب بھی ہو لیکن اگر اُس کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر نہیں‘ بیماری کی صورت میں علاج کرانا مشکل ہے‘ صاف پانی اور صفائی کی سہولتیں دستیاب نہیں اور رہائش کا معیار ناقص ہے تو اس خاندان کو حقیقی معنوں میں خوشحال قرار نہیں دیا جا سکتا؛چنانچہ کثیرجہتی غربت کا اشاریہ کسی ملک میں انسانی ترقی کی اصل صورتحال کو سمجھنے کا اہم پیمانہ ہے۔تاہم ہمسایہ ممالک کی نسبت پاکستان میں کثیر جہتی غربت کی بلند شرح واضح کرتی ہے کہ معاشی استحکام اور بحالی کے دعوؤں کے باوجود یہاں عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آ رہی اور غربت کے خاتمے کیلئے اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی ۔

بھارت میں کثیر جہتی غربت کی شرح 16.4 فیصد ہے اور بنگلہ دیش میں 14.9 فیصد‘ جبکہ بھارت میں مزید4.2 فیصدآبادی غربت کے خطرے سے دوچار ہے اور اور بنگلہ دیش میں 3.9 فیصد۔ معاشی ترقی‘ مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں لیکن انکی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب عام شہری کی قوتِ خرید بہتر ہو‘ روزگار کے مواقع بڑھیں اور بنیادی سہولتوں تک رسائی آسان ہو۔ اگر معیشت کے بعض اشاریوں میں بہتری کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ تعلیم‘ صحت اور مناسب رہائش سے محروم رہیں تو معاشی کامیابی کے دعوؤں پراعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ملک میں کثیر جہتی غربت کی شدت میں بیروزگاری‘ کم آمدنی‘ مہنگائی اور معاشی مواقع کی غیر مساوی تقسیم کا بنیادی کردار ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں روزگار کے مناسب مواقع میسر نہ ہونے سے نوجوانوں کی بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور گھرانوں کی آمدنی اور اخراجات میں فرق بڑھتا جاتا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے کم آمدنی والے گھرانوں کیلئے خوراک‘ تعلیم‘ علاج‘ توانائی اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنا دشوار ہو چکا ہے۔
غربت صرف موجودہ ضروریات پوری کرنے میں رکاوٹ نہیں بن رہی بلکہ مستقبل میں بہتر زندگی کے امکانات بھی محدود کررہی ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں محرومیاں اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنارہی ہیں۔اس صورتحال میں یہ خدشہ مزید تشویش کا باعث ہے کہ معیاری تعلیم سے محروم بچوں کو مستقبل میں بہتر ملازمتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ علاج کی سہولتوں تک محدود رسائی خاندانوں کو مالی مشکلات میں دھکیلنے کا سبب بنے گی۔ دیہی علاقوں کی پسماندگی اورشہری آبادیوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی غربت کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دیرپا معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ صنعت‘ زراعت اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ دے کر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے جبکہ فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر فراہم کیے جائیں تو نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح میں کمی آ سکتی ہے۔
کم آمدنی والے طبقوں کی قوتِ خرید بہتر بنانے‘ اجرتوں کو مہنگائی کے تناظر میں دیکھنے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مؤثر بنانے کی بھی ضرورت ہے جبکہ تعلیم اور صحت پر حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری میں اضافہ بھی ضروری ہے ‘ نیز عام آدمی کی ضروریات‘ باعزت روزگار‘ معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں کو ملک کی معاشی پالیسیوں کا محور بنانا ہو گا کیونکہ جب تک ترقی کے ثمرات سماج کے محروم طبقات تک نہیں پہنچتے معاشی بحالی کا عمل ادھورا سمجھا جائے گا۔