شدید غذائی بحران
’گلوبل نیٹ ورک اگینسٹ فوڈ کرائسس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں غذائی بحران شدید ترین صورت اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک کروڑ چھ لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں‘ جنہیں فوری امداد درکار ہے۔ غذائی قلت اور غربت کے حوالے سے عالمی اداروں کی رپورٹیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ملکِ عزیز میں غذائی قلت کا مسئلہ سنگین چیلنج بن چکا ہے‘ جس سے صرفِ نظر کی گنجائش نہیں۔مذکورہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غذائی بحران کی بنیادی وجوہات میں غربت‘ اشیائے خورونوش کی مہنگائی‘ روزگار کے محدود مواقع اور گھریلو آمدن میں کمی نمایاں ہیں۔ زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت‘ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملنا اور منڈیوں میں قیمتوں کا عدم توازن بھی غذائی تحفظ کو متاثر کر رہا ہے۔

حکومت کو اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری امداد اور دیرپا اصلاحات پر مشتمل جامع حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔ شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار خاندانوں کو فوری ٹارگٹڈ سبسڈی‘ نقد مالی معاونت اور خصوصی فوڈ پروگرامز فراہم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے‘ روزگار کے مواقع میں اضافے اور عوام کی معاشی سکت بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ صنعتوں کو مناسب نرخوں پر توانائی کی فراہمی‘ چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی اور ہنرمندی کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔