اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ایل پی جی کا بحران

اوگرا کی جانب سے اکتوبر کیلئے ایل پی جی کی قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کیے جانے کے باوجود عوام تقریباً دو گنا نرخوں میں ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ ایک خبر کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ایل پی جی کے نرخ 500روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں یہ 600روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں یہ اضافہ مارکیٹ کی نگرانی اور قیمتوں پر مؤثر عملدرآمد کے نظام کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ قدرتی گیس کی قلت کے باعث ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے پیش نظر گھریلو صارفین نے اس مسئلے کا حل ایل پی جی کے استعمال کی صورت میں نکالا لیکن اب یہ بھی عوامی قوتِ خرید سے باہر ہوچکی ہے اور آئندہ دنوں میں اسکی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

اگر حکومت گیس کی قلت دور نہیں کر سکتی تو کم از کم سرکاری نرخ نامے کی پابندی تو یقینی بنائے۔ یہ صرف ایل پی جی تک ہی موقوف نہیں بلکہ منافع خوری کی یہ روش تمام اشیائے ضروریہ کے حوالے سے رائج ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر ناجائز منافع خور عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن کرے‘ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور دکانداروں کے مابین قیمتوں کے تعین کے نظام کو شفاف بنائے اور سخت نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے۔ اس کیساتھ ساتھ سپلائی میں مصنوعی رکاوٹوں کا خاتمہ بھی یقینی بنایا جائے تاکہ منافع خوروں کیلئے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں