اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے خلاف سیاسی اتحاد

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے ایوانِ بالا میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے نازک اور حساس مسئلے پر حکومت کیساتھ سر جوڑ کر بیٹھنے کی دعوت دی ہے۔ ایسے وقت میں جب ایک طرف ملکی سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں اور مغربی سرحدی اضلاع دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں‘ اندرونی عدم استحکام اور سیاسی خلفشار سکیورٹی کے ابھرتے ہوئے چیلنجز کو سنگین بنا رہا ہے۔ ان حالات میں دہشت گردی کے خلاف تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔ ماضی کا تلخ تجربہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ جب بھی ریاست اور سیاسی قیادت نے سکیورٹی چیلنجز پر قابو پانے کیلئے یکسوئی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا‘ دہشت گردوں کو شکست و پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اور جب کبھی باہمی سیاسی و نظریاتی اختلافات کو قومی سلامتی پر فوقیت دی گئی ملک میں عدم استحکام کی لہر نے جنم لیا۔ایک رپورٹ کے مطابق 2022ء میں ملک میں دہشت گردی کے 262 واقعات میں 419اموات ہوئیں۔ 2025ء میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 699تک پہنچ گئی اور جانی نقصان 1034۔

اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے 90 فیصد واقعات مغربی صوبوں میں پیش آئے اور تین برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں 166فیصد اضافہ ہوا اور اضافے کا رجحان رواں سال بھی جاری ہے؛ اگرچہ سکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کو ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس دوران آپس میں الجھی رہیں اور دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی اور قومی بیانیے پر یکسو نہ ہو سکیں۔ دشمن قوتوں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور آج نتیجہ دہشت گردی کے پے بہ پے واقعات کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ قومی سلامتی اور استحکام ایسے غیر متزلزل اصول ہیں جنہیں سیاسی‘ جماعتی‘ گروہی یا ذاتی مفادات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ دسمبر 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل کا مقصد ہی یہ تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی مناقشوں سے دور رکھا جائے اور اس ضمن میں ہر ادارے اور ہر فرد کی ذمہ داریاں واضح کی جائیں۔

سانحہ اے پی ایس کے بعد ملک کی تمام سیاسی قیادت نے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک چھت تلے بیٹھنے کا جو تاریخی فیصلہ اور عسکری قیادت کے ساتھ مل کر جس قومی عزم کا اظہار کیا تھا‘ اسی نے بعد ازاں آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن رد الفساد کی بنیاد رکھی‘ جنہوں نے سوات سے لے کر وزیرستان اور کراچی سے لے کر کوئٹہ تک دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ جب سیاسی قیادت کا بیانیہ یکساں ہوتا ہے تو قوم بھی انکے پیچھے یکجان ہو جاتی ہے اور یوں ریاست کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اسکے برعکس جب سیاسی بیانیوں میں ابہام پیدا ہوتا ہے اور کوئی پورب اور کوئی پچھم کا رخ کرتا ہے تو اس کی بھاری قیمت ملک و قوم کو چکانا پڑتی ہے۔ آج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل یکسوئی‘ متفقہ سیاسی بیانیے اور مصمم عزم کی ضرورت ہے۔ یہ مقصد وسیع البنیاد سیاسی شرکت داری ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستر ہزار سے زائد شہریوں اور دس ہزار سے زائد جوانوں اور فوجی افسروں کی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جا ئیں گی۔

سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں‘ لیکن کسی بھی اقدام یا قول و فعل سے ریاست کی سلامتی پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی وابستگیوں کو ایک طرف رکھ کر‘ قومی سلامتی کی خاطر سکیورٹی مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے اور ایک ایسے مضبوط‘ متحد اور پُرعزم پاکستان کی بنیاد رکھی جائے جہاں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں