اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ملتان کا المناک وقوعہ

ملتان میں ایک پندرہ سالہ یتیم بچے کو کام چھوڑ کر جانے پر گاڑی تلے کچل کر قتل کیے جانے کا واقعہ محض ایک بچے کی المناک موت کا سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی لاقانونیت‘ کمزور طبقات کے استحصال اور بچوں کے تحفظ میں ناکامیوں کا ایک ہولناک مظہر ہے۔ اب تک سامنے آنے والے شواہد کے مطابق ملزمان بچے کو جبری مشقت کیلئے زدوکوب کرتے تھے‘ ان حالات سے تنگ آ کر جب اس نے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی تو ملزمان نے گاڑی میں اس کا تعاقب کیا‘ اسے تیز رفتار گاڑی سے ٹکر ماری اور کچل کر قتل کر دیا۔اہلِ علاقہ نے واقعے میں ملوث ایک سفاک شخص کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تاہم دوسرا ملزم تاحال مفرور ہے۔

ملتان پولیس کے سربراہ نے یتیم بچے کے قاتلوں کے خلاف بھر پور مقدمہ قائم کرنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے تا ہم یہ اس المناک وقوعے کا ابھی دوسرا روز ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کا یہ جذبہ اور اس مقتول کو انصافی کی فراہمی یقینی بنانے کا عزم برقرار رہتا ہے یا وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے اور غریب ‘ یتیم بچے کا خون رزقِ خاک ہو جاتا ہے۔ واقعے کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجزاور گواہ موجود ہیں‘ ملزم زیر حراست ہے اور امید کی جاتی ہے کہ دوسرا ملزم بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ قتل کے اس مقدمے میں بظاہر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ ملزمان اپنے کیے کی قرار واقعی سزا سے بچ سکیں۔بہرکیف ریاست کی ذمہ داری ‘ دلچسپی اور کارکردگی یہ ثابت کرے گی کہ انصاف ہوتا نظر آتا ہے یا۔۔۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں