فرشتوں کی دعاؤں کے مستحق خوش نصیب لوگ
لاہور: (مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی) انسان کیلئے یہ سعادت مندی ہے کہ اس کی مانگی ہوئی دعائیں رب کی بارگاہ میں قبول کی جائیں یا لوگ اس سے اس درجہ محبت کریں کہ اس کیلئے پسِ پردہ دعائیں مانگیں۔ چنانچہ ہم بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جب وہ کسی عالم یا بزرگ سے ملاقات کرتے ہیں تو ان سے اپنے لیے صحت وعافیت، نیک اعمال کی توفیق اور دنیا وآخرت میں کامیابی کیلئے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔
بعض احباب اپنے نیک بھائیوں سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی دعاؤں میں انہیں یاد رکھیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی شخص کی اپنے بھائی کیلئے پسِ پردہ میں کی گئی دُعا قبول ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’مسلمان کی اپنے بھائی کیلئے اس کی پیٹھ پیچھے کی گئی دُعا مستجاب ہوتی ہے، اس کے سر کے قریب ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، وہ جب بھی اپنے بھائی کیلئے دعائے خیر کرتا ہے تو مقرر کیا ہوا فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے (صحیح مسلم : 2733)۔
کسی شخص کیلئے اس سے بڑھ کر سعادت مندی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کیلئے دعائے خیر کریں، جس کی دعا کے قبول ہونے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں ہے، قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہے کہ فرشتے مومنین کیلئے یا کچھ مخصوص اعمالِ صالحہ کرنے والوں کیلئے رحمت ومغفرت کی دعا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اللہ وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت مہربان ہے‘‘ (سورۃ الاحزاب: 43)۔
دوسرے مقام پر عرش الٰہی کو اٹھائے ہوئے فرشتوں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو فرشتے عرش اٹھائے ہوئے ہیں، اور جو فرشتے اس کے گرد جمع ہیں، یہ سب اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور ایمان والوں کیلئے مغفرت طلب کرتے ہیں، (کہتے ہیں) اے ہمارے پروردگار! تو نے اپنی رحمت اور علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے لہٰذا انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے‘‘(سورۃ الغافر: 7)۔ ان آیات سے یہ واضح ہوگیا کہ فرشتے مومنین کیلئے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔
پہلی صف میں کھڑے ہونے والے
فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو نماز کیلئے پہلی صف میں کھڑا ہو، حضرت برا بن عازبؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں‘‘ (صحیح ابن ماجہ: 823)
حضرت برا بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ (تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے) ایک سرے سے دوسرے سرے تک صفوں کے درمیان چلا کرتے تھے، ہمارے کندھوں اور سینوں کو ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر سیدھا کرتے اور فرماتے: آگے پیچھے کھڑے نہ ہو ورنہ تمہارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہو جائیں گے، اللہ تعالی اگلی صفوں والوں کیلئے خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کیلئے دعائیں کرتے ہیں‘‘(صحیح النسائی: 810)
صفوں میں دائیں طرف کھڑے ہونے والے
فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو صفوں میں دائیں طرف کھڑے ہو، اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں (حسن اسنادہ شعیب الارنائوط فی تخریج شرح السنۃ: 819)
صفوں کو ملانے اور جوڑنے والے
فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو صفوں کو جوڑے اور ملائے، اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں اور جو شخص صف میں خالی جگہ بھر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا۔ (صحیح ابن ماجہ: 821)
نماز فجر اور عصر با جماعت ادا کرنے والے
فرشتوں کی دعاؤں کے مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو فجر اور عصر کی نماز با جماعت ادا کرتا ہے، حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :کہ جس نے فجر کی نماز پڑھی پھر وہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہا تو فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور فرشتوں کی دعا یہ ہوتی ہے: اے اللہ! اس کی مغفرت فرما،اے اللہ! اس پر رحم فرما (رواہ ا حمد و حسنہ فی تخریج المسند: 2/306)
ایک اور مقام پر حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں، چنانچہ جب فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے باقی رہتے ہیں اور جب عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے باقی رہتے ہیں، چنانچہ ان کا رب ان سے پوچھتا ہے (حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے) میرے بندوں کو تم نے کس حالت میں چھوڑا؟ تو وہ کہتے ہیں: ہم ان کے پاس سے آئے اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور نماز ہی کی حالت میں ہم انہیں چھوڑ کر آئے ہیں، لہٰذا قیامت کے دن ان کی مغفرت فرما دینا (صحیح الترغیب: 463)۔
نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھے رہنے والے
فرشتوں کی دعاؤں کے مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھے رہتا ہے، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بندہ مسلسل نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کی جگہ پر نماز کے انتظار میں رہتا ہے اور فرشتے کہتے رہتے ہیں: اے اللہ! اسے معاف فرما،اے اللہ!اس پر رحم فرما، یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے یا بے وضو ہو جاتا ہے (صحیح مسلم: 649)۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور فرشتے اس کیلئے برابر دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتا ہے، کہتے ہیں اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما(صحیح الترمذی: 330)۔
رات کو وضو کر کے سونے والے
فرشتوں کی دعاؤں کے مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو رات کو وضو کر کے سوتے ہیں، سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو آدمی باوضو رات گزارتا ہے، ایک فرشتہ اس کے پہلو میں رات گزارتا ہے، جب بھی وہ بندہ رات کی کسی گھڑی میں بیدار ہوتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! اپنے فلاں بندے کو بخش دے، کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات گزاری ہے (السلسلۃ الصحیحۃ: 2539)۔
روزہ کی نیت سے سحری کرنے والے
فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو روزہ رکھنے کی نیت سے سحری کرتا ہے، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو سحری کرتے ہیں‘‘(السلسلۃ الصحیحۃ: 1654)
نبی کریمﷺ پر درود بھیجنے والے
فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتا ہے، حضرت عامر بن ربیعہؓ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کیلئے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے(ابن ماجہ: 748)۔
نیکی و بھلائی کی تعلیم دینے والے
فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو لوگوں کو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے، حضرت ابوامامہ باہلیؓ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم پر ہے، اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اور مچھلیاں اس شخص کیلئے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں (صحیح الترمذی: 2685)
راہِ خیر میں خرچ کرنے والے
فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو راہِ خیر میں خرچ کرتا ہے، سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر دن جس میں بندے صبح کرتے ہیں، دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا متبادل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے (مال) کو ضائع فرما دے۔(صحیح البخاری: 1442)
وہ روزہ دارجس کے پاس کوئی روزہ افطار کرے
فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ روزہ دار ہے جس کے پاس لوگ کھانا کھائیں، حضرت اُم عمارہ بنت کعب ؓکہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا، آپﷺ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ روزے سے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے (اور وہ صبر کرے) تو فرشتے اس کیلئے دعا کرتے ہیں(ابن ماجہ: 1748)
بیماروں کی عیادت کرنے والے
فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو بیماروں کی عیادت کرتا ہے، حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرنے کیلئے آتا ہے تو وہ جنت کے باغیچے میں چلتا رہتا ہے حتی کہ آ کر بیٹھ جائے، جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے شام ہونے تک اس کیلئے دعا کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کے وقت میں ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کیلئے دعا کرتے رہتے ہیں (السلسلۃ الصحیحۃ: 1367)۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو مذکورہ اعمال کو اپنانے اور ان پر ہمیشہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم سب فرشتوں کی دعاؤں کے مستحق بن جائیں (آمین یارب العالمین)۔
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی خطیب اور مختلف مدارس میں مہتمم کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان کے مرکزی صدر ہیں۔