نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بلوچستان کےضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسزکی چوکی پردہشتگردوں کاحملہ
  • بریکنگ :- پاک فوج کی جانب سےموثرجوابی کارروائی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- فائرنگ کےتبادلےمیں سپاہی محمدقیصرشہید،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دہشتگردوں کی تلاش کیلئےعلاقےمیں سرچ آپریشن جاری،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates

اردو ادب کی پہلی مقبول شا عرہ ادا جعفری انتقال کر گئیں

اردو ادب کی پہلی مقبول شا عرہ  ادا جعفری انتقال کر گئیں

دنیا اخبار

اردو ادب کی مقبول شاعرہ اور کئی شعری مجموعوں کی خالق ادا جعفری جمعرات کو کراچی

کراچی(سٹاف رپورٹر) میں 91برس کی عمر میں انتقال کرگئیں ۔ وہ پاکستان کے سینئر سول آفیسر نورالحسن جعفری کی اہلیہ تھیں ۔ ادبی حلقوں کے مطابق ادا جعفری اردو شاعری کا معتبر نام اور رسمی شعری نشستوں سے دور رہ کر زبر دست شعری مجموعے تخلیق کرنے والی شاعرہ تھیں۔ادا جعفری 1924 میں پیدا ہوئیں ،مرحومہ کا اصل نام عزیز جہاں اور والد کا نام بدرالحسن تھا۔ادا جعفری کا پہلا شعری مجموعہ ‘‘میں ساز ڈھونڈتی رہی’’1950 میں ،‘‘شہر درد ’’1968 میں ،‘‘غزالاں تم تو واقف ہو ’’1974 میں ،ہائیکو مجموعہ ‘‘ساز سخن ’’1982 میں منظر عام پر آیا۔ ادا جعفری کو ‘‘شہر درد’’ پر آدم جی ایوارڈ ملا جبکہ 1981 میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ ادا جعفری کی مقبول عام غزلوں میں ‘‘ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے ،آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے ’’ شامل ہے ۔ادا جعفری کی آپ بیتی ‘‘جو رہی سو بے خبر ہی رہی’’کے عنوان سے شائع ہوئی ۔ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے ۔ کبھی اخبار پڑھ لینا ، کبھی اخبارہو جانا۔ ان کا ایک مقبول شعر تھا،ادبی حلقے انہیں پاکستان کی پہلی مقبول شاعرہ کا خطاب بھی دیتے ہیں۔ ادا جعفری

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement