کراچی 10 میگا پراجیکٹس ٹھپ. سڑکوں انڈر پاسز , فلیئی اوورز کی ناقص منصوبہ بندی: لاگت میں اربیں کا اضافہ ہوگیا
متاثرہ منصوبوں میں لی مارکیٹ فلائی اوور، آئی سی آئی انٹر چینج پل، یونیورسٹی روڈ سے راشد منہاس روڈ تک اسٹیڈیم روڈ کی بحالی شامل حبیب بینک چورنگی کے قریب اورنگی نالے کی کشادگی، بلوچ کالونی فلائی اوور کی ری ماڈلنگ، بلدیہ ٹاؤن واٹر پائپ لائن کے منصوبے بھی متاثر
کراچی (رپورٹ : اختیار کھوکھر) حکومت سندھ کی جانب سے کراچی میں سڑکوں کی بحالی ، فلائی اوورز اور انڈرپاسز کی تعمیرکے 28 میگا پروجیکٹس میں سے 10 منصوبے ناقص منصوبہ بندی کے نتیجے میں ٹھپ ہو گئے ، ان منصوبوں کی لاگت میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق کراچی کے 10 بڑے منصوبوں کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں مختص کردہ تین ارب روپے میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوسکا، ان منصوبوں میں لی مارکیٹ فلائی اوور، آئی سی آئی انٹر چینج پل، یونیورسٹی روڈ سے راشد منہاس روڈ تک اسٹیڈیم روڈ کی بحالی، کے ایم سی فائربریگیڈ کی اپ گریڈیشن، حبیب بینک چورنگی کے قریب اورنگی نالے کی کشادگی، بلوچ کالونی فلائی اوور کی ری ماڈلنگ ، بلدیہ ٹاؤن کو پانی کی فراہمی کے لیے نئی پائپ لائن بچھانے سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں ۔ ‘‘دنیا نیوز’’ کی جانب سے رابطہ کرنے پر کراچی میگا پروجیکٹس کے پروجیکٹس ڈائریکٹر نیاز سومرو نے کہا کہ گراؤنڈ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ لی مارکیٹ فلائی اوور اور آئی سی آئی انٹر چینج پل والے منصوبے تعمیر نہیں ہوسکتے ، جب کہ بعض دیگر منصوبے ابھی ٹینڈر کے عمل سے گزر رہے ہیں، اس لیے ان منصوبوں پر کوئی خرچہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر کے بعض منصوبے مکمل ہونے میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ ہوجانے کا بڑا سبب منصوبوں کی تعمیر شروع کرنے کے بعد منصوبوں میں بعض ایسے نئے کاموں کا نکل آنا ہے جو پہلے منظور شدہ ڈیزائن میں شامل نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا سب میرین چورنگی انڈر پاس منصوبے کا نئے ڈیزائن کے مطابق ازسر نو ٹینڈر طلب کرنے کی صورت میں منصوبے کی تعمیر تاخیر کا شکار ہوسکتی تھی، اس لیے پہلے ہی ٹینڈر پر دیئے گئے ٹھیکے پر یہ کام شروع کرا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی اور ترقیات کے طے شدہ اصولوں کے مطابق بڑے منصوبوں کا ٹھیکہ دینے سے پہلے گراؤنڈ سروے کر کے فیزیبلٹی رپورٹ تیار ہونی چاہیے ، لیکن چونکہ کراچی شہر میں ہنگامی بنیاد پر کام کرنے کی ضرورت تھی اس لیے فیزیبلٹی کے بغیر منصوبے شروع کر دیئے گئے ۔ دریں اثناء صوبائی وزیر جام خان شورو کا کہنا ہے کہ کراچی میگا پروجیکٹس کی تعمیر قواعد کے مطابق ہورہی ہے اور بعض منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہونا معمول کا عمل ہے ۔ دوسری جانب جن منصوبوں پر کام ہوا ہے اُن میں سے بھی اکثر منصوبے ناقص منصوبہ بندی اور بے ضابطگیوں کا شکار رہے ہیں ، جس کے نتیجے میں کئی منصوبے مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہو سکے اور ان کی لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ ‘‘دنیا نیوز’’ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کراچی کلفٹن کے علاقے میں سب میرین چورنگی پر سوا دو ارب روپے لاگت کے انڈر پاس والے منصوبے کا تعمیراتی کام نیا ٹینڈر طلب کیے بغیر خلاف قواعد شروع کرا دیا گیا۔ اس منصوبے کا ٹھیکہ پچھلے سال فروری میں دیا گیا، یہ منصوبہ چھ ماہ کے اندر مکمل ہونا تھا لیکن تاحال زیر تعمیر ہے ۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کا ٹھیکہ دینے کے بعد حکام کو پتا چلا کہ منصوبے کا منظور شدہ ڈیزائن ناقابل عمل ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جس منصوبے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا اُس کا ڈیزائن ضروری گراؤنڈ سروے کے بغیر تیار کیا گیا تھا۔ ڈیزائن کے مطابق سب میرین چورنگی پر ایک چھوٹا انڈر پاس چوہدری خلیق الزماں روڈ سے گذری کے طرف چھوٹی گاڑیوں کے گزرنے کے لیے تعمیر ہونا تھا ، لیکن حکام کو بعد میں اندازہ ہوا کہ گذری کی طرف جانے والی گاڑیاں جیسے ہی انڈر پاس سے باہر نکلیں گی تو ان کو گذری فلائی اوور پر چڑھنے کے لیے دوسری بڑی چڑھائی کا سامنا کرنا پڑے گا ، جس پر گاڑیوں کا چڑھنا مشکل تھا ، اس بنیاد پر ڈیزائن کو ناقابل عمل قرار دے کراسکریپ کر دیا گیا ۔ نئے ڈیزائن کے مطابق منصوبے کا رخ شان چورنگی سے پنجاب کالونی کی طرف تبدیل کیا گیا۔ ایک انڈر پاس کے بجائے پورٹ سے نکلے والی بڑی مال بردار گاڑیوں کے گزرنے کے لیے اب دو بڑے انڈر پاس منظور کیے گئے ، تعمیراتی کام تین گنا بڑھ گیا ، منصوبے کی لاگت 70 کروڑ روپے سے بڑھ کر سوا دو ارب روپے پر پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق جب پورا منصوبہ ہی تبدیل ہو گیا ، ڈیزائن اور لاگت تبدیل ہوگئی اور اسکوپ آف ورک بڑھ گیا تو وہ منصوبہ ہی نہیں رہا، جس کے لیے ٹینڈر طلب کر کے ٹھیکہ دیا گیا تھا اور نہ ہی طلب کردہ ٹینڈر میں نئے تیار کردہ کاموں کا کوئی ذکر تھا، ایسی صورت میں قواعد کے مطابق حکومت سندھ کو شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرانے ٹینڈر اور ٹھیکے کو منسوخ کر کے نئے منصوبے کے لیے نئے ٹینڈر طلب کرنے تھے ، لیکن ایسا کرنے کے بجائے منسوخ شدہ ڈیزائن والے منصوبے کے ٹھیکیدار سے نئے ڈیزائن والے کام شروع کرا دیئے گئے ۔ اسی طرح شاہراہ فیصل کی کشادگی اور بحالی کا ٹھیکہ فروری 2017 ء میں دیا گیا ، یہ منصوبہ بھی چھ ماہ میں مکمل ہونا تھا لیکن تاحال مکمل نہیں ہو سکا، اب اس منصوبے کی لاگت93 کروڑ روپے سے بڑھ کر دو ارب روپے پر پہنچ گئی ہے ۔ اس منصوبے کا نظرثانی شدہ پی سی ون منظور کر کے سروس روڈ کی تعمیر کے 32 کروڑ روپے لاگت کے نئے کام شامل کر کے پرانے ٹھیکیدار کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔ چار لائن والی 27 کلومیٹر کشادہ سڑک شاہراہ فیصل کی بحالی اور لائٹنگ کا ٹھیکہ 93 کروڑ روپے میں منظور ہوا ، لیکن صرف آٹھ کلومیٹر چھوٹے سروس روڈ کی تعمیر 32 کروڑ روپے میں ہو رہی ہے ۔ اس کے علاوہ حسن اسکوائر سے نیپا تک یونیورسٹی روڈ کی بحالی کے منصوبے کی لاگت 77 کروڑ سے بڑھ کر ایک ارب 28 کروڑ روپے ہوگئی۔ این ای ڈی یونیورسٹی سے صفورا چورنگی تک یونیورسٹی روڈ کی بحالی کی لاگت 78 کروڑ روپے سے بڑھ کر ایک ارب 47 کروڑ روپے ہو گئی۔ سرجانی سے مدینۃ الحکمت تک سڑک کی بحالی کے منصوبے کی لاگت 75 کروڑ روپے سے سوا ایک ارب روپے پر پہنچ گئی۔ حکومت سندھ کی جانب سے دوبرس کے دوران کراچی شہر کے لیے اہم سڑکوں کی بحالی ، انڈرپاسز اور فلائی اوورز سمیت 18 ارب روپے لاگت کے 28 میگا پروجیکٹس تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ پچھلے مالیاتی سال کے بجٹ میں 14 منصوبوں کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے لیکن ان میں سے 12 منصوبوں پر چھ ارب روپے خرچ ہوسکے تھے ، رواں مالیاتی سال کے بجٹ میں کراچی میگا پروجیکٹس میں 14 نئے منصوبے شامل کر کے کل 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے نو ماہ کے دوران 10 ارب روپے جاری ہو گئے ہیں، لیکن صرف ساڑھے پانچ ارب روپے خرچ ہوسکے ہیں۔