نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آزادکشمیرقانون سازاسمبلی کے 45 انتخابی حلقوں میں پولنگ آج ہوگی
  • بریکنگ :- انتخابی نشستوں کیلئے 28 سیاسی جماعتوں کےامیدوارمیدان میں ہوں گے
  • بریکنگ :- مظفرآباد:پولنگ مقررہ وقت کےمطابق صبح 8سےشام 5 بجےتک ہوگی
  • بریکنگ :- مظفرآباد:32لاکھ 20 ہزار 546 ووٹرزحق رائےدہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- مجموعی طورپر 6139پولنگ اسٹیشنزپر 9101 پولنگ بوتھ بنائےگئے
  • بریکنگ :- مظفرآباد:1209پولنگ اسٹیشنزحساس اور 826 حساس ترین قرار
Coronavirus Updates

سندھ حکومت ناکام، اسمبلی مفلوج : وزیراعلٰی کٹھ پتلی، فیصلے بلاول ہاؤس میں ہوتے، گورنر راج غیر جمہوری، آرٹیکل 140 اے نافذ ہونا چاہئے، سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے : وفاقی وزیر اطلاعات

سندھ حکومت ناکام، اسمبلی مفلوج : وزیراعلٰی کٹھ پتلی، فیصلے بلاول ہاؤس میں ہوتے، گورنر راج غیر جمہوری، آرٹیکل 140 اے نافذ ہونا چاہئے، سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے : وفاقی وزیر اطلاعات

دنیا اخبار

وفاق وزیر اعلٰی سندھ کیخلاف سازشیں کررہا، آرٹیکل 140 پنجاب میں نافذ کریں، پیپلز پارٹی، عمران خان صدارتی نظام لانے کی کوشش کررہے ہیں : ن لیگ ، سندھ کو 18 ارب ملے ، کہاں گئے ؟پولیس کو بھی ترقی نہ دی جاسکی،پانی بلاول ہائوس،مراد شاہ چوری کررہے ،ن لیگ کا مستقبل نہیں، اگلے 7 سال بھی بینر اٹھائے کونے میں کھڑے ہونگے :فواد ، سندھ کی نگرانی کے خواب دیکھنا بند کریں، وفاق نے جو غیرقانونی فنڈز اپنے ایم پی ایز کو دئیے انکا حساب دیں، لسانی فسادات کرانے کی سازش کی جارہی ہے : ناصر شاہ، سعید غنی ، مرتضیٰ وہاب

کراچی ، اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،اے پی پی ،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ سندھ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ، ہر پانچ سال بعد پیپلز پارٹی سے کسی ایک شخص کو کٹھ پتلی اور ربڑ سٹیمپ کے طور پر وزیراعلیٰ ہائوس میں بٹھا دیا جاتا ہے ، اس کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، سارا اختیار ان کے پاس ہے جو سندھ اسمبلی میں نہیں بلاول ہائوس میں بیٹھتے ہیں، سندھ کے اضلاع کو فنڈز جاری نہیں کئے جا رہے ، زرداری خاندان نے سندھ اسمبلی کو مفلوج کر دیا ہے ، سندھ حکومت میں اتنی اہلیت نہیں کہ وہ امن و امان کیلئے سندھ پولیس کو اپ گریڈ کر سکے ۔سندھ میں گورنر راج کی ضرور ت نہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ آئین میں گورنرراج کی گنجائش نہیں، گورنرراج لگانا غیرجمہوری کام ہوتا ہے ،سپریم کورٹ کو سندھ کی صورتحال پر ازخودنوٹس لینا چا ہئے ۔ سندھ میں آرٹیکل 140 اے نافذ ہونا چاہئے جس کے تحت مقامی حکومتیں بنیں، وہ اپنے مسائل خود حل کریں بصورت دیگر اضلاع فنڈز سے محروم رہیں گے ۔ نیب نے تاریخ میں سب سے زیادہ رقم سندھ سے پلی بارگین کے کیسوں سے وصول کی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فواد چودھری نے کہا اس وقت کراچی میں ماسوائے ان علاقوں کے جہاں ریکوری کے مسائل ہیں، لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی، وفاق نے کے الیکٹرک کو 500 میگاواٹ اضافی بجلی فراہم کی تاکہ کراچی کے شہریوں کو گرم موسم میں تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ کراچی کے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے حکومت نے خصوصی انتظامات کئے ۔ وزیراعلیٰ سندھ بدقسمتی سے قوم پرست سیاست کر رہے ہیں، وہ ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید کی سیاست سے خود کو علیحدہ کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں تعصب پھیلایا جاتا ہے ۔ سندھ کو گزشتہ سالوں کے دوران تقریبا 16ً سے 18 ارب روپے وفاق کی طرف سے ملے ، صوبوں کے لئے 27 فیصد بجٹ میں حصہ رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں چاروں صوبوں کا حصہ وفاقی حکومت کے شیئر میں بڑھے گا، اس کے تحت سندھ کو 700 ارب روپے سے 750 ارب روپے این ایف سی ایوارڈ ملے گا، جب اتنا پیسہ صوبائی حکومت کے پاس آتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے ، اس بجٹ میں بھی سندھ کا حصہ بڑھایا گیا ہے ، ان کے پاس اتنا پیسہ آیا لیکن وہ کہاں گیا؟۔یہاں کی حالت یہ ہے کہ 1990سے کراچی شہر میں پولیس کو ترقی نہیں دی جا سکی، کراچی پولیس کی حالت خراب کرنے کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے ۔ بلوچستان کے بی ایریاز میں اتنے برے حالات نہیں جتنے اس وقت امن و امان کے حوالے سے کراچی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدین اور گھوٹکی میں گیس اور تیل کی مد میں رائلٹی کی صورت میں سندھ حکومت پیسہ وصول کر رہی ہے ، آج گھوٹکی اور بدین کی حالت دیکھی جا سکتی ہے ، ان اضلاع کی ترقی کے لئے سندھ حکومت نے کیا اقدامات کئے ۔ من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دے کر سندھ کو کب تک چلایا جائیگا؟۔ لاڑکانہ میں پچھلے سالوں کے دوران 90 ارب روپے خرچ ہوئے لیکن وہاں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ سندھ میں صحت کا نظام تباہ و برباد ہے ۔ سندھ میں پانی کی قلت سے متعلق وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ کے چند لٹیروں کا مقصد ہے کہ عوام سے زیادتی کریں، سندھ حکومت نگرانی کیوں نہیں کرنے دے رہی کہ کتنا پانی آرہا اورکتنا جارہا ہے ؟ صوبے کے عوام کا اصل پانی بلاول ہاؤس، مراد علی شاہ والے چوری کررہے ہیں، آصف زرداری اور ان کی بہن کی زمین پر تو کبھی پانی کم نہیں ہوا جبکہ سندھ میں پانی کم ہوا تو غریب ہاریوں کی زمینوں پر ہی ہوا، بتایا جائے کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ آزاد مبصر کیوں لگانے نہیں دے رہے ؟۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ احسن اقبال، محسن رانجھا اور ن لیگ کی قیادت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کی، احسن اقبال کہتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان کے مسائل کا ادراک نہیں تو میرا ان سے سوال ہے کہ نواز شریف آجکل کیا ہیں، حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار بھی اوورسیز پاکستانیز ہیں، فرق یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیز بیرون ملک مزدوری کر رہے ہیں اور لٹیروں کا یہ گروہ پاکستان کا پیسہ چوری کر کے بیرون ملک لے گیا ہے ۔ اوورسیز پاکستانیوں کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیرون ملک سے موصول ہونے والی ترسیلات میں سے 90 فیصد ایسی رقوم ہیں جو 500 ڈالر سے کم ہیں، یہ لیبر کی طرف سے پاکستان کو بھیجی گئی رقم ہے ، کسی ایک بندے نے اربوں روپے نہیں بھیجے ، یہ 500، 200 اور 100 ڈالر کی ترسیلات کی صورت میں قانونی طریقے سے پاکستان آئیں، بیرون ملک اوورسیز پاکستانی اپنے وطن کے عشق میں مبتلا ہیں، ن لیگ نے جس طرح اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں ریمارکس دئیے ، میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو انہوں نے دیکھا ہی نہیں اور مسترد کر دیا، ہم نے 49 ترامیم اسمبلی میں پیش کی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایسا انتخاب ہو جس میں ہارنے اور جیتنے والا اسے قبول کرے ، اگر اپوزیشن ان ترامیم سے متفق نہیں ہے تو وہ اپنی ترامیم پیش کرے ۔ ن لیگ کا بیانیہ آ رہا ہے کہ اگلے الیکشن میں دھاندلی ہوگی، یہ باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جو کمزور ہوتے ہیں، مسلم لیگ(ن) کا اگلے الیکشن میں کوئی مستقبل نہیں، وہ ایسی فضارکھنا چاہتے ہیں کہ جب وہ ہاریں گے تو شور مچائیں گے کہ دھاندلی ہو گئی۔ اگلے سات سال ان کا مستقبل یہی ہوگا کہ یہ لوگ بینر اٹھا کر ایک کونے میں کھڑے ہوں گے جن پر لکھا ہوگا کہ حکومت نامنظور، الیکشن نا منظور، ان کو خطاطی سیکھ لینی چاہئے تاکہ بینرز لکھنے کے لئے ان کا خرچ اور وقت بچ سکے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بجٹ کو کاروباری طبقے ، صنعت کاروں اور عوام نے خوش آئند قرار دیا ہے ، ہمیں خوشی ہے کہ ملک کے تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں نے اس بجٹ کا خیرمقدم کیا، انشااللہ یہ سال پاکستان کی ترقی کا سال ہوگا۔ کورونا کے باوجود ملک میں مہنگائی کی شرح دنیا سے کم رہی، پاکستان میں مہنگائی کی شرح 28 فیصد رہی جبکہ آمدن کی شرح میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔ ہمارے کسان نے بے پناہ فائدہ اٹھایا، 1100 ارب روپے شہری معیشت سے دیہی معیشت میں منتقل ہوئے ، 60 فیصد ورکر زرعی شعبہ سے وابستہ ہیں، چاول، گندم، مکئی، کینو، گنا، آم سمیت سات بمپر فصلیں ہوئیں جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت 4 فیصد سے زیادہ بڑھی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا، بجٹ میں عام آدمی کے لئے ہم نے اقدامات کئے ، چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی، انٹرنیٹ، موبائل فونز، موبائل ڈیٹا پر نئے ٹیکس لگانے کی تجویز کو مسترد کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا، ٹیکس ریلیف پنشنرز کو بھی ملا اور تنخواہ دار طبقے کو بھی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 2008سے 2018تک پی ٹی وی میں 1800 لوگ بھرتی کئے گئے ۔ اے پی پی میں 922 لوگ ہیں جن میں سے صحافی تقریباً 250 ہیں، باقی سارے غیر صحافی ہیں۔ خورشید شاہ پر اصل کیس یہ بننا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے اضافی بھرتیوں سے اداروں کو نیست و نابود کیا۔ ہم اے پی پی، ریڈیو پاکستان اور وزارت اطلاعات کے ہر فرد کو گھر فراہم کریں گے ، ہم ملازمین کو الائونسز دیں گے ، ہم اداروں میں ریفارمز لائیں گے ۔ ہم نے صحافیوں کے مسائل کے حل کی پوری کوشش کی، تمام صحافیوں اور ورکرز کو ادائیگیاں یقینی بنانے کیلئے ہم نے صحافتی اداروں کو بقایا جات ادا کئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنانے کا مقصد یہی ہے کہ جن صحافیوں بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کے ساتھ معاہدے کی پاسداری نہیں ہو رہی تو انہیں اس پر عمل درآمد کیلئے قانونی حق مل سکے ۔ بجٹ میں کم از کم اجرت 20 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے ، تمام صحافتی اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے ورکرز کی تنخواہوں میں اس کے مطابق اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ ہم نے دیا، اسد عمر نے اس پر بہت توجہ دی ہے ، جب تک صوبائی محکمے ترقیاتی کام میں شامل نہیں ہوں گے ، منصوبوں میں تاخیر ہوگی۔ سندھ کو ساڑھے سات کروڑ روپے این ایف سی ایوارڈ سے مل رہے ہیں، اندرون سندھ اور کراچی پیکیج اس کے علاوہ ہے ، مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ وفاق اضافی پیسہ بھی انہیں دے ، اگر یہ پیسہ مراد علی شاہ اینڈ کمپنی کو دیا جائے تو وہ کراچی، بدین، گھوٹکی اور لاڑکانہ میں لگنے کی بجائے دبئی اور پیرس میں جا کر لگے گا۔ ہم اپنا پیسہ براہ راست عوام پر لگائیں گے ، سندھ کے حکمرانوں کو دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مردم شماری کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہونا چاہئے ، ایک ویب سائٹ بننی چاہئے جس میں نادرا کا روزانہ کا ڈیٹا اپ ڈیٹ ہونا چاہئے تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کہ کتنی آبادی بڑھی ہے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے 60 اداروں کے سربراہان میرٹ پر تعینات کئے ، یہی وجہ ہے کہ آج ادارے اپنے پائوں پر کھڑے ہو رہے ہیں، سٹیل ملز، پی ٹی وی، ریڈیو اور دیگر اداروں کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ وفاق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کیخلاف سازشیں کررہا،فواد چودھری حب الوطنی کا درس کسی اور کو دیں ۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے بیان پر سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے جو ملک اور عوام کی حالت کی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں آپکی نااہل حکومت نے حقیقت میں عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ فواد چودھری حب الوطنی کا درس کسی اور کو دیں۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ کے لئے سلیکٹیڈ حکومت کی منافقانہ اور غیر منصفانہ پالیسیاں یہاں کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں این ایف سی ایوارڈ ہو یا سندھ کے پانی کا معاملہ، ہمیشہ سندھ کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے سندھ کا مقدمہ پارٹی قیادت کی سربراہی میں سید مراد علی شاہ اچھی طرح لڑ رہے ہیں ہمارے جیالے سندھ کا مقدمہ لڑنا خوب جانتے ہیں۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے خلاف بات کرکے فواد چودھری کی نوکری پکی نہیں ہونی۔ سندھ کا پانی کسی اور نے نہیں بلکہ وفاق اور پنجاب نے روکا جسکی وجہ سے سندھ میں بدین، ٹھٹھہ، عمر کوٹ، جامشورو، گھارو اور دیگر علاقوں کی زمینیں بنجر کردی گئیں ۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فواد چودھری کو لوٹائے اعظم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا انہوں نے ملک کی کوئی پارٹی نہیں چھوڑی جسکی کرائے کی ترجمانی نہ کی ہو ۔سندھ کے وزیر اطلاعات وبلدیات سیدناصرحسین شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری زرداری فیملی کے خلاف بیان بازی کرکے اپنا سیاسی قد بڑھانے کی کوشش اور نوکری پکی کر رہے ہیں، فواد سندھ حکومت سے این ایف سی کے تحت دئیے گئے فنڈز کا حساب لینے کا حق نہیں رکھتے ، یہ حق صرف سندھ اسمبلی کو ہے کہ وہ سندھ حکومت سے پائی پائی کا حساب لے ۔مراد علی شاہ ایک انتہائی کامیاب اور طاقتور وزیراعلی ٰہیں اور ان کی صلاحتیوں سے وفاق نہ صرف پریشان ہے بلکہ خوف زدہ ہے ، وفاق ان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے ہمیں سب معلوم ہے ۔ وفاقی وزیر شاید ربڑ سٹیمپ اپنے سلیکٹڈ وزیراعظم کو کہہ رہے تھے ، فواد چودھری پنجاب کا وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں، فواد سندھ کی نگرانی کے خواب دیکھنا بند کریں اور وفاقی حکومت نے جو غیرقانونی فنڈز اپنے سندھ کے ایم پی ایز کو د ئیے ہیں ان کا حساب دیں، وفاقی حکومت اب براہ راست اپنے ایم پی ایز کے ذریعے یونین کونسل میں کام کروا کر کرپشن کر رہی ہے اس کرپشن کا حساب سے وفاقی حکومت کو دینا ہوگا۔ناصر شاہ نے کہاکہ پنجاب نے غیرقانونی طور پر چشمہ جہلم کینال کھول کر سندھ کے پانی پر ڈاکا ڈالا۔۔وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فواد چودھری عجیب مخلوق ہیں۔پیپلز پارٹی آئین اور قانون کے مطابق اپنی حکومت چلا رہی ہے ۔ سندھ حکومت واحد صوبائی حکومت ہے ، سندھ کے عوام اور ان کے حقوق کی بات کرنا اگر جرم ہے تو وزیر اعلیٰ سندھ یہ جرم کرتا رہے گا اور سندھ کے عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں کسی پی ٹی آئی کے سرٹیفکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بحیثیت ایک سیاسی کارکن کے میرا تجزیہ ہے کہ سندھ میں لسانی فسادات کرانے کی سازش کی جارہی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس جس دن یہ ثبوت ہوگا ، جس دن میرے پاس یہ اطلاعات ہونگی کہ اس میں کسی کی مداخلت اور کردار ہے تو اللہ کے کرم سے مجھ میں اتنی جرات ہے کہ میں اس کی بات کرسکتا ہوں۔ انہوں نے کہا فواد چودھری کس منہ سے سپریم کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 140-A کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ خود عدلیہ نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو توڑنے پر فیصلہ دیا ہے کہ ان کو بحال کیا جائے اور وہ اس پر بھی عمل درآمد نہیں کررہے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 140-A کا مطالبہ کرنا ہے تو وہ پہلے پنجاب کے لئے کریں اور سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے اس پر عمل درآمد کرائیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت کی انتخابی ترامیم کو آئین اور الیکشن کمیشن پر سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان پارلیمانی نظام جمہوریت ختم کرکے صدارتی نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ترجمان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ترامیم قائداعظم کی سیاسی ونظریاتی فکر کے برعکس ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ترامیم حلقہ بندیاں کرنے ، انتخابی فہرستیں بنانے کے اختیارات الیکشن کمیشن سے چھین لیں گی۔ حلقہ بندیاں اب آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ‘سلیکٹڈ’ کی مرضی کی بنیاد پر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ عمران صاحب الیکشن کمیشن کے آئینی اختیارات چھین کر پاکستان کو ‘بنانا ری پبلک’ بنانا چاہتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement