اشرافیہ کو سہولت دینے والا ترقی کا ماڈل غربت میں اضافہ کریگا:یوسی پی میں پری بجٹ سیمینار
لاہور (سٹاف رپورٹر )یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب میں فیکلٹی آف ہیومنیٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے زیراہتمام پری بجٹ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد نے شرکت کی جن میں معروف اکانومسٹ عبداللہ خان سنبل، سابق صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ، چیئر پرسن پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیشن پنجاب ڈاکٹر تسنیم ظفراور سینئر ممبر ایل سی سی آئی رحمن عزیز چن شامل تھے ۔
بحث کا آغاز ڈاکٹر تسنیم ظفر نے ناکافی محصولات اور بلند مالیاتی قرضوں کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی کی رفتار کو تیز کرنے اور خوشحالی کے حصول کیلئے معیشت کی تمام سطحوں اور شعبوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے ۔ ترقی کا ایک ماڈل جو صرف اشرافیہ اور کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرتا ہے وہ صرف آمدنی میں عدم مساوات اور غربت میں اضافہ کرے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے طالب علموں کو افراط زر میں کردار ادا کرنے والے عالمی اور خارجی عوامل سے آشنا کیا۔ عبداللہ خان سنبل نے پالیسی سازی میں ماہرین تعلیم کے کردار پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے طلبا کی شکایات کا ازالہ کیا جنہوں نے مالیاتی پالیسی میں تعلیمی تحقیق کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا تھا، انہوں نے یقین دلایا کہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیٹی مستقبل میں یونیورسٹیوں اور PIDE جیسے تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر کام کریگی۔ رحمن عزیز نے تجارت اور کاروبار کو فروغ دینے کے طریقوں کے بارے میں بہت مفید خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بڑی تعداد میں سرکاری سبسڈی حاصل کرنیوالی فرموں کی نااہلی کو اجاگر کیا۔انہوں نے SMEs کے فروغ اور معیشت کے روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کے لیے جائز مداخلت اور حکومتی سبسڈی کے بارے میں بات کی ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر زیادہ بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرکے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیداوار میں اضافے اور طویل مدتی نمو کے لیے حکومت کو غیر ضروری اشیا کی درآمد کو روکنا چاہیے اور مستقبل میں خود کفیل بننے کے لیے کم از کم ٹیرف کے ساتھ کیپٹل گڈز کی درآمد میں اضافہ کرنا چاہیے ۔آخر میں تنویر اشرف سے پیچیدہ ڈھانچے اور پیچیدہ ٹیکس قوانین کے بارے میں سوال کیا گیا ، جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فنانس بل ایک بہت پیچیدہ ڈھانچے پر مشتمل ہے جسے ایک رکن پارلیمنٹ اور یہاں تک کہ ایک ماہر معاشیات بھی نہیں پڑھ سکتا جس کی وجہ سے ایسی خامیاں پیدا ہوتی ہیں جو مخصوص فائدہ اٹھانے والوں جیسے اشرافیہ اور کاروباری طبقے کو SROs اور استثنیٰ سے سہولت فراہم کرتی ہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ فنانس بل پر مزید کھلی بحث اور تنقید کی اجازت دی جائے تاکہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی عجیب و غریب پیچیدگیوں کو ختم کیا جا سکے ۔تقریب میں طلبا اور فیکلٹی ممبران نے بھر پور شرکت کی۔ آخر میں پرو ریکٹر ڈاکٹر ناصر اکرام نے اختتامی کلمات ادا کیے اور مقررین کو سووینئرز پیش کئے ۔