آئین میں صرف90دن کے اندر انتخابات کا ذکر نہیں ،آرٹیکل 254بھی پڑ ھیں:نگران وزیراطلاعات

آئین میں صرف90دن کے اندر انتخابات کا ذکر نہیں ،آرٹیکل 254بھی پڑ ھیں:نگران وزیراطلاعات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب اور وفاقی نگران حکومتوں کی طرف سے نگران سیٹ اپ میں توسیع کے حوالے سے کوششوں کا تاثر ابھرنے پر نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا آئین کے اندر 280 آرٹیکل موجود ہیں۔

آئین میں صرف 90 دن کے اندرانتخابات کا ذکر نہیں، آرٹیکل 254 بھی پڑھیں ، اردو نیوز کے مطابق حکومتی ذرائع یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو موجودہ ملکی معاشی صورت حال ہے اور اس میں بہتری کیلئے ہونے والی کوششوں بالخصوص مستقبل قریب میں ہونے والی غیرملکی سرمایہ کاری انتخابات کے باعث تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے ، اس لیے معیشت میں قدرے بہتری کے بعد انتخابات کی طرف جایا جائے ، حکومتی ذرائع نے بتایا کہ نگران سیٹ اپ میں توسیع اور انتخابات کے التوا کے معاملے پر بات چیت نگران وزیراعظم کے دورہ متحدہ عرب امارات کے بعد طے ہے ،جب وزیراعظم واپس آئیں گے تو تمام سٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں گے پھر اس پر بات چیت ہوگی، اس معاملے پر سوچ سمجھ کر ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔مسلم لیگ ن کی منشور کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا انتخابات میں التوا اور نگران سیٹ اپ میں توسیع ہرگز نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ہم ایسا کرنے دیں گے ،انتخابات میں پہلے ہی تاخیر ہو چکی ہے ، 8 فروری کو جب انتخابات ہوں گے تو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی نگران حکومتیں 90 دن کی آئینی مدت کے برعکس ایک سال سے بھی طویل عرصہ گزار چکی ہوں گی جبکہ وفاقی حکومت چھ ماہ سے زائد عرصے تک مسند اقتدار پر براجمان رہ چکی ہوگی جو کہ طویل عرصہ ہے ۔

انتخابات کے مزید التوا سے آئینی بحران پیدا ہوگا،صدر پہلے ہی توسیع پر چل رہے ہیں، مارچ میں سینیٹ بھی غیر فعال ہو جائے گی، کوئی منتخب ایوان موجود نہیں ہوگا جس سے عدم استحکام پیدا ہوگا،اس کے خارجہ محاذ اور آئی ایم ایف سمیت دیگر فورمز پر بھی اثرات مرتب ہوں گے ،سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ انتخابات کے التوا سے متعلق میڈیا پر کوئی بات تک نہیں ہونی چاہیے تو اس لیے نگران سیٹ اپ کو بھی ایسے کسی اقدام سے باز رہنا چاہیے ،سپریم کورٹ اور سیاسی جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ ن انتخابات میں التوا برداشت نہیں کرے گی، جو کوئی ایسی کوشش بھی کرے گا ہم اس کا راستہ روکیں گے ۔مرتضیٰ سولنگی نے کہا پاکستان میں ہر ایک کو اظہار رائے ، شکایت اور تنقید کرنے کی آزادی حاصل ہے ،جو آزادی پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کو حاصل ہے وہ مسلم لیگ ن کو بھی حاصل ہے ، ان کے پاس بھی شکایت کرنے کا اختیار موجود ہے ۔ آئین کے آرٹیکل (3) 218 کے تحت الیکشن کمیشن صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کرے گا اور ہم اس کی مدد کریں گے ۔

آئین کا آرٹیکل254 :جب کوئی فعل یا امر دستور کی رو سے ایک خاص مدت میں کرنا مطلوب ہو اور اس مدت میں نہ کیا جائے تو اس فعل یا امر کا کرنا صرف اس وجہ سے کالعدم نہ ہو گا یا بصورت دیگر غیر موثر نہ ہوگا کہ یہ مذکورہ مدت میں نہیں کیا گیا تھا۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں