نواز شریف چوتھی بارسلیکٹ ہوئے تو کوئی نہیں مانے گا،میاں صاحبان کو پی آئی اے نہیں خریدنے دینگے:بلاول

نواز شریف چوتھی بارسلیکٹ ہوئے تو کوئی نہیں مانے گا،میاں صاحبان کو پی آئی اے نہیں خریدنے دینگے:بلاول

لوئر دیر(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا رائیونڈکا وزیراعظم کوشش کررہا ہے کہ چوتھی بارسلیکٹ کیا جائے ، تین بار ناکام ہونے والا اب کون سا تیر مار دے گا، ہمیں پتہ ہے میاں صاحب چوتھی بار آکر کیا کریں گے۔

میاں صاحب نے پھر انہی سے پنگا لینا ہے جو انہیں دو تہائی اکثریت دلوائیں گے ، ووٹ کی بے عزتی نہ کریں،ایک بارالیکٹ ہوکر آجائیں تو مان جائوں گا ، چوتھی بار سلیکٹ ہوئے تو کوئی نہیں مانے گا، بانی پی ٹی آئی سے کوئی اختلاف نہیں تھا، صرف یہ اختلاف تھا کہ سلیکٹ ہوکر کیوں آئے اور ملک پر مسلط کیوں کیا گیا، میں ہر سلیکٹڈ کا مقابلہ کروں گا، نگران حکومت میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ صاف اور شفاف الیکشن کیلئے یہ ایک غلط پیغام ہے کہ میاں صاحب کے کارکن آج بھی وزارتیں سنبھال رہے ہیں، نجکاری کی وزارت میں نواز شریف کا خاص بندہ بیٹھا ہوا ہے اور پی آئی اے کی یونین نے مجھے بتایا کہ یہ اسے بیچ نہیں رہے بلکہ اسے خرید رہے ہیں تو ہم کسی صورت میاں صاحبان کو پی آئی اے نہیں خریدنے دیں گے ۔بلاول بھٹو زرداری نے لوئر دیر میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا پاکستان کی سیاست میں وہی پرانی سیاست چلتی آرہی ہے ، نفرت اور تقسیم کی سیاست عروج پر ہے۔

سیاسی اختلاف رائے کی بجائے اب ذاتی دشمنیوں پر اتر آئی ہے ، ایک جماعت کا ارادہ ہے کہ الیکشن جیت کر سیاسی مخالفین سے انتقام لے ، دوسری جماعت کا بھی یہی ارادہ ہے ، پیپلز پارٹی نے جتنا ظلم برداشت کیا وہ کسی نے نہیں کیا ، مگر ہم نے کبھی انتقام نہیں لیا، ہم نے بانی پی ٹی آئی اور قائد ن لیگ دونوں کو برداشت کیا، ہم صرف عوام کی خدمت کرتے ہیں اور اپنی انا اور ذاتی دشمنی کی سیاست نہیں کرتے ، ہم اس نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنا چاہتے ہیں،بانی پی ٹی آئی نے ذاتیات اور سیاسی انتقام کے لیے اپنا موقع ضائع کیا، ادھر رائیونڈ کا وزیراعظم تین بار تو وزیراعظم بن چکا ہے ، اب کوشش میں ہے کہ اسے چوتھی بار سلیکٹ کیاجائے ، جو شخص 3 بار فیل ہوا، وہ چوتھی بار آکر کون سا تیر مارے گا؟انہوں نے کہا کہ نواز شریف 90 کی دہائی میں بھی آئی جے آئی کی صورت میں سلیکٹ ہوئے تھے ، تب بھی حکومت میں آکر وہی پرانی سیاست کی اور جو انہیں لے کر آئے تھے اسی سے لڑ پڑے اور نقصان عوام کا ہوا، انہیں لانے والے ماضی بھول گئے اور دوسری بار وزیر اعظم بنایا مگر پھر دوبارہ انہی سے لڑ پڑا جنہوں نے انہیں دو تہائی اکثریت دلائی تھی، 10 سال کیلئے باہر جانا پڑا، ہم نے سوچا کہ میاں صاحب تیسری بار کچھ تبدیلی لائیں گے مگر پھر ایکشن ری پلے ہوا اور وہی پرانی عادتیں دہرائیں۔

پھر پوچھنا شروع ہوگئے مجھے کیوں نکالا؟ ایون فیلڈ سے اپنا انقلاب لارہے تھے ۔ جو پہلے ان کو لائے تھے نواز شریف ان سے آج پھر دو تہائی اکثریت مانگ رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہاں سے دیں، ہمیں ابھی سے معلوم ہے کہ چوتھی بار آکر بھی انہوں نے وہی انتقامی سیاست کرنی ہے اور ان سے لڑنا ہے جو انہیں حکومت دلواتے ہیں، پھر چوتھی بار بھگتنا پڑے گا، وہ پنگا ان سے لے گا نقصان عوام کا ہوگا۔بانی پی ٹی آئی سے صرف یہ اختلاف تھا کہ سلیکٹ ہوکر کیوں آئے اور ملک پر مسلط کیوں کیا گیا، وہ مان لیں کہ آپ غلط تھے اور پی پی صحیح تھی جو آپ کو جمہوریت پر یقین رکھنے کا کہتی تھی، لیکن آپ نے بات نہیں مانی اور امپائر کی انگلی پر سیاست کرتے رہے ، جس کا نقصان اب بھگت رہے ہیں، نواز شریف کو بھی یہی پیغام ہے کہ آپ کو تجربہ ہے ، اپنے مؤقف سے نہ پھریں، ووٹ کی بے عزتی نہ کریں، سلیکشن کا شوق چھوڑیں، چوتھی بار اصل الیکشن تو لڑیں، 3 بار سلیکٹ ہوئے چیلنج کرتا ہوں ایک بار تو الیکٹ ہو کر آجائیں، میں بھی انہیں مان لوں گا، چوتھی بار بھی سلیکٹ ہوکر آنا چاہتے ہیں تو نہ میں مانوں گا نہ عوام مانیں گے ، میں ہر سلیکٹڈ کا مقابلہ کروں گا۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں