آزادکشمیر،گلگت بلتستان،بلوچستان،سندھ میں دانش سکول بنائینگے:شہباز شریف

آزادکشمیر،گلگت بلتستان،بلوچستان،سندھ میں دانش سکول بنائینگے:شہباز شریف

اسلام آباد(خصو صی نیوز رپورٹر ، اے پی پی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے دنیا کی کوئی قوم تعلیم اور شعور کے بغیر ترقی وخوشحالی کی منزل حاصل نہیں کرسکتی جب تک قوم کے کروڑوں بچوں کیلئے تعلیم کابندوبست نہیں کیا جاتا اس وقت تک قائداعظم کے پاکستان کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

آزاد کشمیر، گلگت بلتستان ، بلوچستان ، سندھ میں بھی دانش سکول بنائینگے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں دانش سکول سائیٹ کے معائنے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں قوم کے بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے پنجاب میں جو کوششیں شروع ہوئی تھیں اس کے دائرہ کا ر میں توسیع کی جا رہی ہے ۔ دانش سکول میں زیادہ تر وہ بچے داخل ہیں جو ذہین وفطین ہیں مگر جن کے والدین کے پاس تعلیم کے وسائل موجود نہیں تھے یا جن کے والدین اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔ اللہ کے فضل وکرم سے دانش سکول میں پڑھنے والے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے قوم کے چشم وچراغ ملک اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا جب ہم نے دانش سکول کا آغاز کیا تو ہمیں تنقید کے نشتروں کا نشانہ بنایا گیا مگر ہمارا موقف تھا کہ اگر امرا کے بچوں کیلئے ایچی سن کالج جیسے ادارے بن سکتے ہیں تو غریب مگر ذہین وفطین بچوں کیلئے ایسے سکول کیوں نہیں کھل سکتے ۔ اسلام آباد میں ایسی زمینیں موجود تھیں جہاں امرا کے بچوں کیلئے سکول کھل گئے ہیں جو اچھی بات ہے مگر تعلیم صرف امرا کے بچوں کا حق نہیں ہے غریب کے بچوں کو بھی جدید تعلیمی سہولیات ملنی چاہئیں۔ اسی سوچ کے تحت ہم نے دانش سکولوں کا دائرہ کار اسلام آباد ، آزاد جموں وکشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان تک پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دانش سکول اسلام آباد کیلئے 10 ایکڑ زمین فراہم کی جا رہی ہے جہاں تمام جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی مشاورت کے ساتھ آزاد جموں وکشمیر، گلگت بلتستان ، بلوچستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں یہ سکول بنائے جائیں گے ، ہماری کوشش ہو گی کہ ان علاقوں کے ہر ڈویژن میں یہ سکول قائم ہوں۔26 ملین سکول نہ جانے والے بچوں کی تشویشناک تعداد کو \"مجرمانہ غفلت\"قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا قائداعظم کا پاکستان کے بارے میں خواب ان کی تعلیم کے انتظامات کیے بغیر ادھورا رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکولوں کا جال ملک بھر میں بچھایا جائے گا تاکہ جن بچوں پر مہنگے تعلیمی اداروں کے دروازے بند ہیں ان کیلئے دانش سکول کے دروازے کھلے ہوں۔ آزاد جموں وکشمیر ، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے سکولوں میں دانش سکولوں کی پی سی ون کی منظوری کے بعد ان سکولوں کا سنگ بنیاد وہ خود رکھیں گے ۔وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے دانش سکول کے پیچھے نظر آنے والے وژن کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ تعلیمی شعبے میں درپیش چیلنجز اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے اور ہر خالی عمارت کو تدریسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے ۔دریں اثنائوزیر اعظم محمد شہباز شریف اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان منگل کوٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں انہوں نے عیدالفطر کی مبارکباد پیش کی ۔

وزیراعظم آفس کے پریس ونگ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان کی قطر کے ساتھ مشترکہ مفاد کے تمام شعبوں میں ملکر کام کرنے اور دونوں رہنماؤں نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کااعادہ کیا ۔امیر قطر نے بھی گرمجوشی سے وزیر اعظم کو عید کی مبارکباد پیش کی اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے قطر کے امیر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی جو امیر نے قبول کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ جلد پاکستان کا دورہ کرینگے ۔گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 50 ویں سالگرہ منائی گئی۔ دونوں رہنما ئوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے اور تمام باہمی فائدہ مند شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ۔وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں عیدالفطر کی مبارکباد کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں رہنماں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ بنیادی قومی مفادات پر ایک دوسرے کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے ۔ دونوں رہنمائوں نے فلسطین میں قیام امن پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے صدر اردوان کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ اس دورہ سے سٹرٹیجک کوآپریشن کونسل کا ساتواں اجلاس بھی منعقد ہونے کے امکانات روشن ہو جائیں گے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں