پاکستان اور بھارت کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد برابر
اسلام آباد، نئی دہلی(اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک)لندن میں قائم ایک تھنک ٹینک نے پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں ان کی فوجی طاقت کا موازنہ پیش کیا ہے، بھارت کو بظاہر روایتی ہتھیاروں سمیت فوجی افرادی قوت کے حساب سے پاکستان پر عددی برتری حاصل ہے تاہم ایٹمی ہتھیاروں میں دونوں ملک برابری کی سطح پر ہیں۔
بھارت کے پاس 172 نیوکلیئروار ہیڈز ہیں جبکہ پاکستان کے 170 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے فعال فوجی اہلکاروں کی تعداد بھارت کے مقابلے میں نصف ہے ۔بھارتی مسلح افواج میں 14لاکھ فعال اہلکار ہیں، ان میں سے بری فوج میں12لاکھ 37ہزار ،بحریہ میں 75ہزار 500اورکوسٹ گارڈ زمیں 13ہزار350اہلکار شامل ہیں ۔ پاکستان کے فعال فوجی اہلکاروں کی تعداد 7لاکھ ہے جن میں سے 5لاکھ 60ہزاربری ،70ہزار فضائیہ اور 30ہزار بحریہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔بھارتی توپ خانے میں 9ہزار743ہتھیار ہیں جبکہ پاکستان کے پاس ہتھیاروں کی تعداد4ہزار 619ہے ۔بھارت کے پاس جنگی ٹینکوں کی تعداد 3ہزار740اور پاکستان کے پاس2ہزار 537ہے ۔بھارت کے پاس 730 لڑاکا طیارے ہیں جبکہ پاکستان کا فضائی بیڑہ 452 طیاروں پرمشتمل ہے ،پاکستانی فضائیہ کے پاس اپنے بھارتی حریف کے مقابلے میں لڑاکا طیاروں کی تعداد کم ہے تاہم چین نے پاکستانی فضائیہ کو جدید کرنے میں اسلام آباد حکومت کی بہت مدد کی ۔بھارتی بحریہ کے پاس 16 آبدوزیں، 11 بڑے جنگی بحری جہاز، 16 چھوٹے جنگی بحری جہاز اور دو طیارہ بردار بحری بیڑے شامل ہیں، جب کہ پاکستان کی بحریہ کے پاس آٹھ آبدوزیں اور 10 فریگیٹس ہیں۔سویڈش تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ بھارت کی بری فوج میں 22لاکھ اور پاکستان کی بری فوج میں 13لاکھ اہلکار ہیں ۔بھارت نے 2025 میں اپنے دفاع پر تقریباً 86 ارب ڈالر کے برابر رقم خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ پاکستان نے 25-2024 کے مالی سال کیلئے مسلح افواج کے لیے 10 ارب ڈالر سے زیادہ رقم مختص کی ہے ۔گلوبل فائر پاور کے مطابق انڈیا کے پاس زمینی فوج کے تقریباً 22 لاکھ اہلکار ہیں جبکہ فضائیہ کے ارکان کی تعداد تین لاکھ 10 ہزار اور بحریہ کے اہلکاروں کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار ہے ۔اس کے مقابلے میں پاکستانی افواج میں برّی فوج کے تقریباً 13 لاکھ دس ہزار، بحریہ کے سوا لاکھ جبکہ فضائیہ کے 78 ہزار کے اہلکار ہیں۔گلوبل فائر پاور کے اعدادوشمار کے مطابق انڈیا کے آپریشنل ہوائی اڈوں کی تعداد 311 جبکہ پاکستان میں یہ تعداد 116 ہے ۔بکتربند گاڑیوں کی بات کی جائے تو انڈیا کے پاس ایسی گاڑیوں کی تعداد 3147 جبکہ پاکستان کے پاس 2604 ہے ۔توپخانے کے معاملے میں پاکستان خودکار توپوں کے معاملے میں انڈیا سے آگے ہے اور انڈیا کی 100 ایسی توپوں کے مقابلے میں پاکستانی توپوں کی تعداد 662 ہے ۔گاڑی سے باندھ کر لے جائی جانے والی توپوں کی بات ہو تو انڈیا کے پاس ایسی 3975 توپیں ہیں جبکہ پاکستان کے اسلحہ خانے میں موجود ایسی توپوں کی تعداد 2629 ہے ۔ملٹی بیرل راکٹ لانچر وہیکلز کے معاملے میں بھی پاکستان آگے دکھائی دیتا ہے اور گلوبل فائر پاور کے مطابق اس کے پاس 600 ملٹی بیرل راکٹ آرٹلری ہے جبکہ انڈین فوج کے پاس ایسی آرٹلری کی تعداد 264 ہے۔