کوئی خو ش فہمی نہ رہے، آج غزہ کل سب کی باری : خواجہ آصف
اسلام آباد، جنیوا، دوحہ(اے ایف پی، مانیٹر نگ ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کوئی ملک خوش فہمی میں نہ رہے آج غزہ تو کل سب کی باری آئے گی۔
ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے کہا کہ غزہ کے فلسطینیوں اور وہاں کے بچوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، میرا یقین ہے کہ مسلم ممالک غزہ کی مدد ضرور کریں گے، دشمن سامنے آئے تو جذبہ ایمانی ہونا چاہئے اور پاکستان نے یہ ثابت کیا،پاکستان نے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی، ہمیں امریکا یا کسی اور کی حفاظت پرنہیں اللہ پر یقین تھا۔ عرب ممالک ہمارے دوست بھائی ہیں ہم ان کی مدد کیلئے تیار ہیں۔ دوسری طر ف نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے قطر کی برادر ریاست پر اسرائیل کی بلا اشتعال اور غیر قانونی جارحیت کے پیش نظر پاکستان نے الجزائر اور صومالیہ کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست دی ہے ۔ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)نے قطر پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دوحہ پر فضائی حملے کو قطر کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیدیا جبکہ او آئی سی نے بھی قطری دارالحکومت پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس معاملہ پرہونیوالا اجلاس قطرکی درخواست پر آج جمعرات تک ملتوی کردیا تاکہ قطر کے وزیر اعظم اجلاس میں شرکت کر سکیں۔امریکی تھنک ٹینک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس کا آخری ٹھکانہ ترکیہ ہے جو اسرائیل کا اگلا نشانہ ہو سکتا ہے ۔امریکی تھنک ٹینک انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو مائیکل روبن کے مطابق ترکیہ کی نیٹو رکنیت اسے اسرائیلی حملے سے تحفظ فراہم نہیں کریگی ۔قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا ہے کہ دوحہ میں حماس پر اسرائیلی حملے نے غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کی امید کو ختم کر دیا ہے ،قطر کے وزیراعظم نے بنجمن نیتن یاہو کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کیا ۔نیتن یاہو نے قطر پر حملے کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے کے امریکی آپریشن سے تشبیہ دیدی۔انہوں نے ویڈیو بیان میں کہاکہ یہ کارروائی بالکل اسی طرح کی گئی جیسے امریکا نے افغانستان میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور پاکستان میں اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کیلئے کی تھی۔