ایران سے جنگ مزید لڑنی ہے یا نہیں؟ امریکی کانگریس آج فیصلہ کرے گی

واشنگٹن: (دنیا نیوز، ویب ڈیسک) ایران سے اور جنگ لڑنی ہے یا نہیں ؟ صدر ٹرمپ کا اختیار ختم ہوگیا اور اب جنگ کے حوالے سے امریکی کانگریس آج فیصلہ کرے گی ۔

قانون کے تحت امریکی صدر 60 دن میں جنگ کی ایوان سے اجازت لینے کا پابند ہے ۔ 60 دن کی ڈیڈلائن آج ختم ہوگئی جبکہ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ عارضی جنگ بندی کی مدت نہ رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ جنگ ختم ہوچکی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو ایک خط لکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ خط کانگریس کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کے نام ارسال کیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کا مرحلہ اب اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

خط میں ٹرمپ نے لکھا کہ ان کی حکومت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، تاہم اس کے باوجود جنگ جاری رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ تنازع مکمل طور پر حل نہیں ہوا اور صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ 7 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کو بعد میں لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا گیا ۔ 7 اپریل کے بعد سے کوئی فائر نہیں ہوا۔

امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوگئی ، جنگ بندی کے بعد سے دونوں ملکوں میں کوئی جھڑپ نہیں ہوئی، وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی اب ختم ہو چکی ہے ، اس لیے امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نےکہا ہے کہ ایران سے جنگ کب ختم ہوگی؟ اور کب کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہوگی؟ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کرے گا۔

وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ 60 دن کی پابندی والی گھڑی رک چکی ، اب کانگریس سے اجازت کی ضرورت نہیں رہی۔

ادھر امریکی سینیٹ میں ایران جنگ پر صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی ڈیموکریٹس کی چھٹی کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے۔

کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف کی قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد ہوگئی۔، قرارداد کا مقصد صدر کو ایران جنگ کے بعد امریکی افواج کو واپس بلانے کی ہدایت دینا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں