یومِ مزدور اور اسلامی تعلیمات
لاہور: (مولانا قاری محمد سلمان عثمانی) یومِ مزدور محض ایک عالمی دن نہیں بلکہ انسانی محنت، وقار اور معاشی انصاف کے اُس تصور کی علامت ہے جسے اسلام نے صدیوں قبل واضح اور مؤثر انداز میں پیش کیا۔
یکم مئی کو دنیا بھر میں منایا جانے والا یہ دن ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کا دارومدار مزدور طبقے کی محنت اور دیانت پر ہوتا ہے، اسلام جو ایک مکمل ضابطٔ حیات ہے، محنت کش انسان کے حقوق، اس کی عزتِ نفس اور اس کے ساتھ انصاف پر غیر معمولی زور دیتا ہے۔
قرآنِ کریم میں جہاں محنت کو انسان کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، وہیں استحصال، ناانصافی اور حق تلفی کی سختی سے مذمت بھی کی گئی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی ‘‘ (سورۃ النجم)، جو محنت کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے، اسی طرح حضرت محمدﷺ نے مزدور کے حقوق کے حوالے سے نہایت جامع تعلیمات عطا فرمائیں، ایک معروف حدیث میں آپﷺ نے فرمایا: ’’مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو‘‘، جو آج کے معاشی نظام کیلئے بھی ایک سنہری اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
اسلام میں مزدوروں کے بہت سے حقوق ہیں جنہیں اسلام نے انتہائی اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے، مزدور ہی اس قوم کا اثاثہ ہیں جو روزانہ کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، کسی بھی ملک، قوم اورمعاشرے کی ترقی میں مزدوروں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، مگر سب سے زیادہ حق تلفی بھی ان ہی کی کی جاتی ہے، سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے مزدور کا استحصال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور مزدور اسے اپنا مقدر سمجھ کر صبر کر لیتے ہیں، ہمارے سماج میں مزدوروں کا وجود ہے، جسے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے۔
مزدوری ہر کوئی کرتا ہے، مگر سب کے درجات الگ ہوتے ہیں، ہر مزدور اپنے میدان میں اپنی بساط بھر مزدوری کرتا ہے اور اجرت حاصل کر کے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرتا ہے، اسلام نے محنت کو بڑا مقام عطا کیا ہے اور محنتی شخص کی بڑی حوصلہ افزائی کی ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا خود کمانے والا اللہ تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے (طبرانی)، یہ فرما کر محنت کی قدرو قیمت اجاگر فرما دی۔
نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ کسی نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا (صحیح بخاری)، آپﷺ کو مزدوروں کے حقوق کا اس حد تک پاس تھا کہ وصال سے قبل آپﷺ نے اپنی امت کیلئے جو آخری وصیت فرمائی وہ یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھو اور ان لوگوں کا بھی جو تمہارے زیر دست ہیں (مسند احمد، ابو داؤد)۔
آپﷺ نے فرمایا تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں خود جھگڑوں گا، ان میں سے ایک وہ ہوگا جس نے کسی سے کام کروایا، کام تو اس سے پورا لیا مگر اسے مزدوری پوری ادا نہ کی (صحیح بخاری)، ایک مرتبہ آپﷺ نے ایک شخص سے مصافحہ کرتے وقت اس کے ہاتھوں پر کچھ نشانات دیکھے، وجہ پوچھی تو اس نے بتایا روزی کمانے میں محنت مشقت کرنے کی وجہ سے، تو آپﷺ نے اس کا ہاتھ چوم لیا، مزید ارشاد فرمایا:مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس کی مزدوری ادا کر دو (ابن ماجہ)۔
جو کوئی غیر آباد زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کی ہے (گویا اس کی محنت نے اس کو مالکانہ حقوق عطا کر دئیے) (احمد، ترمذی، ابو داؤد)، اجرت مزدور کا حق ہے، قرآن حکیم میں آتا ہے ’’جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کیلئے ختم نہ ہونے والا (دائمی) اجر ہے‘‘، معاہدہ ملازمت (چاہے معاہدات واضح ہوں یا مضمر) کے جدید تصورات کی پیش گوئی کرتے ہوئے نبی کریمﷺ نے مزدور کو کام کی اجرت مقرر کئے بغیر بھرتی کرنے اور کام کرانے سے منع کیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور پہننا دستور کے مطابق بچے کے باپ پر لازم ہے۔
محنت و مزدوری اللہ کے نبیوں کی سنت ہے، کم و بیش تمام انبیا کرام علیہ السلام نے مزدوری کو اپنا معاش بنایا، حضرت آدم علیہ السلام نے زمین کاشت کر کے غلہ حاصل کیا، حضرت نوح علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے، حضرت داؤد علیہ السلام زِرہ ساز تھے اور اپنے ہاتھ کے ہنر سے گزر بسرکرتے، حضرت ادریس علیہ السلام درزی کا کام کرتے تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے 10 سال تک حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں چرائیں، پیارے نبی اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمدﷺ نے بھی بکریاں چرائیں، حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ’’اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا، جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں‘‘۔ صحابہ کرامؓ کے استفسار پر نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’میں بھی مکے والوں کی بکریاں چند قیراط پر چرایا کرتا تھا‘‘ (صحیح بخاری)۔
حضورﷺ کی خدمت میں ایک صحابیؓ حاضر ہوئے، آپﷺ نے دیکھا کہ مزدوری کرنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ میں گٹھے پڑے ہوئے ہیں، آپﷺ نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے فرمایا ’’یہ وہ ہاتھ ہیں، جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کو بڑے پیارے ہیں‘‘۔
محنت و مزدوری کی عظمت و اہمیت کی دلیل یہ ہے کہ خود رب کائنات نے محنت کش، مزدور کو اپنا دوست قرار دے رہا ہے، ایک موقع پر اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا ’’بیشک اللہ روزی کمانے والے کو دوست رکھتا ہے‘‘ (طبرانی)، نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ’’ایک ملازم (مرد/ عورت) کم از کم درمیانے درجہ کے عمدہ کھانے اور کپڑوں کا حقدار ہے‘‘ اور ’’کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دی جائے‘‘ اور یہ کہ مقرر کردہ اجرت ان (مزدوروں) کی بنیادی ضروریات کیلئے کافی ہو‘‘۔
ایک اور موقع پر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تمہارے ہاں کام کرنے والے ملازمین تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے، سو جس کا بھی کوئی بھائی اس کے ماتحت ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے۔
تاریخی مطالعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت عمرؓ نے فوجی جوانوں کیلئے اجرت مقرر فرمائی تھی اس اجرت پر دوران ملازمت مختلف معیارات جیسا کہ مدت ملازمت، بہترین کارکردگی اور علمی قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نظر ثانی کی جاتی۔
حضرت ابو رافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک اونٹ قرض لیا، پھر جب آپﷺ کے پاس صدقے کے اونٹ آئے تو مجھے رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ میں اس شخص کا قرض ادا کر دوں جس سے چھوٹا اونٹ لیا تھا، میں نے کہا: میں تو اونٹوں میں چھ سال کے بہترین اونٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں پاتا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اسی میں سے اسے دے دو، کیونکہ لوگوں میں بہتریں وہ انسان ہیں جو قرض ادا کرنے میں سب سے اچھے ہیں‘‘ (موطا امام مالک: 524، جامع ترمذی: 1318)۔
حضرت عوف بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے پاس جس دن مال آتا آپ اسی دن اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے، تو ہم بلائے گئے، اور میں عمارؓ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دیئے گئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا اور میرے بعد عمار بن یاسرؓ بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا (مسند احمد: 22905)، حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے نبی کریمﷺنے فرمایا ’’ہاتھ کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبی کریمﷺ کا اِرشاد مبارک ہے ’’اللہ نے جتنے اَنبیاءؑ بھیجے اُن سب نے بکریوں کی نگہبانی کی ہے‘‘ (مشکوٰۃ)، حضرت سعد انصاریؓ سے نبی رحمتﷺ نے مصافحہ فرمایا تو ان کے پھٹے ہوئے ہاتھ دیکھ کر حضور نبی کریمﷺ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے عرض کیا‘ میں سارا دن ’’پھاوڑے‘‘ سے محنت مزدوری کرتا ہوں، اس لئے ہاتھ پھٹ گئے ہیں تو آپﷺ نے اُس کے ہاتھ کو بوسہ دے کر فرمایا ’’یہ وہ ہاتھ ہیں جنہیں اللہ اور اُس کے رسولﷺ بھی محبوب رکھتے ہیں‘‘۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ جل شانہُ فرماتا ہے ’’میں قیامت کے دن تین شخصوں کا مد مقابل ہوں گا ایک وہ شخص جو میرے نام پر وعدہ کر کے عہد شکنی کرے، دوسرے وہ شخص جو آزاد کو بیچے پھر اس کی قیمت کھائے، تیسرا وہ شخص جو مزدور سے کام لے اوراس کی مزدوری نہ دے‘‘۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ اجرت دونوں کے بارے میں رہنمائی موجود ہے، اس میں کم سے کم اجرت کی تو وضاحت کر دی گئی ہے تاکہ کسی مزدور کی بنیادی ضروریات کما حقہ پوری ہو سکیں، اسی طرح انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں جس طرح ’’انصاف پسند اور مناسب معاوضہ‘‘ کی بات کی گئی ہے اسی طرح، اسلام کا موقف ہے کہ ملازمین کو اتنی تنخواہ ملنی چاہئے کہ اس سے بتقاضائے بشری اس کی اور اس کے خاندان کی تمام ضروریات پوری ہو سکیں۔
یومِ مزدور کے تناظر میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ اسلام نہ صرف محنت کی قدر کرتا ہے بلکہ ایک منصفانہ معاشی نظام کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے، جہاں ہر فرد کو اس کی محنت کا پورا صلہ اور عزت دی جاتی ہے۔
یہ دن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اسلامی اصولوں کی روشنی میں مزدور کے حقوق کا ازسرِنو جائزہ لیں اور ایک ایسے معاشرے کے قیام کی جدوجہد کریں جہاں عدل، مساوات اور انسانی وقار کو حقیقی معنوں میں فروغ حاصل ہو، اللہ تعالیٰ ہمیںمزدورں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین۔
مولانا محمد سلمان عثمانی ختم نبوت اسلامک سنٹر کے ناظم ہیں، ان کے مضامین بیشتر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔