عالمی ذرائع ابلاغ کا غزہ میں صحافیوں کو آزادانہ داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ
لندن: (ویب ڈیسک) عالمی ذرائع ابلاغ نے غزہ میں صحافیوں کو آزادانہ داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کر دیا۔
دنیا کی بڑی عالمی تنظیموں اور خبر رساں اداروں کے سربراہان نے جن میں خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) بھی شامل ہے نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی صحافیوں کے غزہ کی پٹی میں داخلے اور آزادانہ طور پر خبریں پہنچانے پر عائد پابندی ختم کرے۔
عالمی میڈیا کے مطابق یہ پابندی اکتوبر 2023ء میں جنگ کے آغاز سے نافذ ہے اور چھ ماہ سے زائد عرصہ قبل جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اب بھی برقرار ہے۔
ان اداروں اور ایجنسیوں کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ موقع پر موجودگی ضروری ہے، اس سے صحافیوں کو تمام فریقوں کے بیانات کی وضاحت کرنے، عام شہریوں سے براہِ راست بات کرنے اور جو کچھ وہ دیکھتے ہیں اسے براہِ راست نقل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ نیوز آرگنائزیشنز اپنے نامہ نگاروں کو میدانِ عمل میں بھیجتی ہیں جو اکثر ذاتی خطرے کا باعث بنتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) سے لے کر سی این این، ایم سی ناؤ، رائٹرز، جرمن نیوز ایجنسی (ڈی پی اے) اور واشنگٹن پوسٹ تک 22 سے زائد اداروں کے ایڈیٹر ان چیف نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے کی ان کی کوششوں کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا اور انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ان پابندیوں کے تسلسل کی وجوہات پر سوال اٹھایا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فوج نے وقتاً فوقتاً سخت کنٹرول میں غیر ملکی صحافیوں کو دوروں کی اجازت دی ہے لیکن میڈیا ادارے نقل و حرکت کی آزادی چاہتے ہیں۔