پہلے مسنگ پرسن دہشتگرداب کروڑوں کی ادائیگیاں:جسٹس کیانی

پہلے مسنگ پرسن دہشتگرداب کروڑوں کی ادائیگیاں:جسٹس کیانی

اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے جبری گمشدہ شہری عمر عبداللہ کی بازیابی درخواست پرسماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ جن افراد کو ریاست دہشت گرد قرار دیتی رہی، اب انہی کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ پہلے انہیں مسنگ پرسن کہا جائے ، پھر دہشت گرد کہا جائے اور اب کروڑوں روپے ادا کر دئیے جائیں، اگر وہ دہشت گرد تھے تو گرفتار کر کے ٹرائل کیا جاتا اور قانون کے مطابق سزا دی جاتی ۔ دوران سماعت عدالت کے استفسار پرلاپتہ شہری کے والد نے بتایا تاحال ادائیگی نہیں کی گئی۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو لاپتہ شہری کے اہل خانہ کو امدادی رقم کا چیک جاری کرکے 26 ستمبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا اگر اس تاریخ تک چیک جاری نہ ہوا تو ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ خود عدالت پیش ہوں اورسماعت ملتوی کر دی۔ علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے لاپتہ شہری سعید اللہ کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وزارتِ دفاع اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)سے ایک ہفتے میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں