وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب کو بڑے کردار سے تعبیر کیا جا رہا
(تجزیہ:سلمان غنی) سعودی عرب کے دورہ پر وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کی غیر معمولی پذیرائی کو آنے والے حالات میں پاکستان کے بڑے کردار سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ پذیرائی صرف سرکاری سفارت کاری ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے سعودی عرب کے اسٹرٹیجک سیاسی اور معاشی مفادات ہیں اور۔۔۔
خود شریف خاندان کے دیرینہ ذاتی تعلقات اور اعتماد نے اس پذیرائی کو مزید نمایاں کیا ہے اور خصوصاً عالم اسلام کے حکمران اور سعودی عرب کا حکمران خاندان پاکستان کو ایک بدلی ہوئی حیثیت میں دیکھتے ہوئے اس کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے سٹرٹیجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے پر متفق ہیں اور ان تعلقات میں جہاں ایک طرف معاشی تعاون توانائی کے منصوبے اور دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری کا عمل ہے تو دوسری جانب پاکستان خطہ میں ایک اہم فوجی طاقت کی حیثیت سے سعودی عرب کے دفاعی تحفظات کے لئے ایک اہم شراکت دار ہے اور خطہ میں پیدا شدہ نئی صورتحال میں سعودی قیادت پاکستان پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے سعودی عرب کا تعاون ناگزیر ہے ۔
ان کے خیال میں پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام پر چل رہا ہے اور معاشی مشکلات سے نکلنے میں سعودی عرب جیسے اتحادی کی اسے اشد ضرورت ہے اور سعودی عرب کی پذیرائی دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان کو معاشی طور پر تنہا نہیں چھوڑے گا ۔ پاک سعودیہ تعلقات بارے وزیراعظم شہباز شریف کے دور وزارت عظمیٰ کا جائزہ لیا جائے تو وزیراعظم شہباز شریف نے منصب سنبھالنے کے بعد کئی بار سعودیہ کا دورہ کیا اکتوبر 2024میں دونوں ممالک نے 2.8ارب ڈالر مالیت کی 34مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے تھے اس سال بھی وزیراعظم نے دو بار سعودی عرب کا دورہ کیا۔ پہلی بار 19تا 22مارچ کو جس میں دوطرفہ تجارت سرمایہ کاری اور معاشی تعلقات کے حوالہ سے بڑے فیصلے ہوئے تھے اور دوسری بار پانچ اور چھ جون کو عیدالاضحی کے موقع پر بھی انہوں نے سعودیہ کا دورہ کیا تھا اور ان کی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے کی بات ہوئی تھی اور اب نئے حالات میں ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر عرب حکمران ان کو ایک عملی اور انتظامی صلاحیت رکھنے والا قابل اعتماد رہنما سمجھتے ہوئے ان کی طرف دیکھتے اور ان سے اچھی توقعات قائم کرتے نظر آ رہے ہیں ، دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب ،قطر ،ابوظہبی سمیت دیگر مسلم ریاستوں کے حکمرانوں سے بھی جذباتی تعلقات قائم کرتے نظر آ رہے ہیں ،ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان کو معاشی حوالہ سے مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ہے اور اس میں عرب ممالک کا اعتماد حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہو چکے ہیں ۔وزیراعظم شہباز شریف اس دورہ کے بعد آج جمعرات کو لندن جائیں گے اور پرسوں ان کی روانگی لندن سے امریکہ کے لئے ہوگی اور امریکہ میں ان کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے ساتھ ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کا بھی امکان ہے ۔