استنبول میں پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان طویل مذاکرات : معاملات طے نہ پائے تو افغانستان سے کھلی جنگ : وزیر دفاع
مذاکرات میں طے پانے والی شرائط پاکستان کے مفاد میں ہوں تو امن معاہدہ ممکن، امید ہے وہ ضرور ہوگا، جلد نتیجہ سامنے آئے گا،چار پانچ روز سے سرحدی علاقوں میں ہلچل نہیں:خواجہ آصف پاک افغان وفود کی تیز ترین مانیٹرنگ میکنزم پر بات چیت، زمین اور سمندر پر بیک وقت کارروائی کی منفرد صلاحیت کے حامل تین جدید ترین 2400 ٹی ڈی ہوورکرافٹ پاک میرینز میں شامل
اسلام آباد،سیالکوٹ(دنیا رپورٹ،نمائندہ دنیا،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)ترکیہ کی میزبانی میں پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان استنبول میں9 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے ، وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات سے معاملات طے نہیں پاتے تو پھر افغانستان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے ۔پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان تازہ مذاکرات استنبول کے مقامی ہوٹل میں ہو رہے ہیں ۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات 9 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہے ،‘ورکنگ ڈنر’ پر بھی بات چیت ہوتی رہی۔ پاکستان نے افغان طالبان رجیم پر زور دیا کہ ٹی ٹی پی کیخلاف ٹھوس اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے عالمی برادری کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے مذاکرات کے دوران افغان طالبان کے سامنے جامع مسودہ تجاویز بھی پیش کیا۔ ذرائع کے مطابق استنبول میں جاری مذاکرات میں طالبان کی نمائندگی نائب وزیرداخلہ رحمت اللہ مجیب کی قیادت میں آنے والا اعلیٰ سطح کا وفد کر رہا ہے۔
افغان وفد میں قطر میں افغان سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ ، افغان وزیر داخلہ کے بھائی انس حقانی، نور احمد نور، وزارت دفاع کے عہدیدار نور الرحمن نصرت اور افغان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان بھی شامل ہیں۔پاکستان کی جانب سے سینئر عسکری، انٹیلی جنس اور وزارتِ خارجہ کے حکام پر مشتمل7 رکنی وفد شریک ہوا جس نے مذاکرات میں تجاویز پیش کیں جن میں افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کو روکنے کیلئے مانیٹرنگ کا تیز اور مصدقہ میکنزم تشکیل دینا شامل ہے ۔عالمی نشریاتی ادارے کاکہنا ہے کہ یہ مذاکرات تین دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔اس سے قبل پاکستان اور افغانستان نے سرحد پر ایک ہفتے تک جاری شدید اور خونریز جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔وزیردفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں، جلد نتیجہ سامنے آئے گا، اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو کھلی جنگ ہے ۔
اس سے قبل ہماری جو بھی بات چیت ہوئی، اگر وہ میری خوش فہمی نہ ہو تو وہ لوگ امن چاہتے ہیں اور ہم بھی امن کے خواہشمند ہیں، کن شرائط پر امن ہوگا، کچھ باتیں قطر میں واضح ہوئیں، کچھ اب ہو جائیں گی، اگر مذاکرات میں طے پانے والی شرائط پاکستان کے مفاد میں ہوں تو امن معاہدہ ممکن ہے ،امید ہے معاہدہ ضرور ہوگا۔گزشتہ چار پانچ روز میں سرحدی علاقوں میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی، دہشتگردی کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، قطر میں جو طے پایا تھا اس کا پاس کیا جا رہا ہے ۔وزیر دفاع نے کہا افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا عمل دوست ممالک کی وساطت سے کیا جا رہا ہے ، قطر اور ترکیہ بڑے خلوص سے اس عمل میں حصہ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہم نے 40 سال تک افغانوں کی مہمان نوازی کی، دوحا میں جن سے بات کر رہے تھے وہ سارے پاکستان میں جوان ہوئے ، سمجھ نہیں آتا کہ اتنی مہمان نوازی کے باوجود افغانستان کا ہمارے ساتھ ایسا رویہ کیوں ہے ، افغانستان ہمارے خلاف بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے ۔ جہاں ایک قوم نے آپ کی اتنی مہمان نوازی کی ہو، آپ کا ہمسایہ ہو، ایک مذہب کے ماننے والے ہوں، تو کیا آپ اس قوم کیخلاف بھی دہشت گردی کو سپورٹ کریں گے ؟ اس سے زیادہ دکھ کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔
افغانستان کو ایک مناسب تعلق رکھنے کے لیے اور کیا لوازمات چاہئیں؟ ایک ایجنڈا طے ہونا چاہیے ، دونوں ممالک بھائی چارے اور ہمسایہ کی طرح رہیں، ضروری نہیں کہ ہم ایک دوسرے سے بغل گیر ہوں۔انہوں نے کہا افغان مہاجرین نے روزگار اور کاروبار پر قبضہ کیا ہوا ہے ، ہمارا صرف ایک ایجنڈا ہونا چاہیے کہ ہم اخوت کے ساتھ ہمسائے کے ساتھ رہیں، اب جو بھی پاکستان آئے گا ویزے کے ذریعے ہی آئے گا۔اور جو بھی افغان شہری ویزالے کر پاکستان آیا ہے ، اسے واپس جانا ہو گا، ویزا دیا ہے ، مستقل رہائش نہیں۔ اس لیے اب ایک واضح ضابطہ اخلاق اور باہمی احتساب کا میکنزم لازم ہے تاکہ پاکستان اور افغانستان امن و احترام کے ساتھ رہ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعلق ذمہ داری اور نظم کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے عملی اقدامات کیے جائیں گے ۔انہوں نے کہا افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہیں، ہم ہر دوسرے دن شہدا کے جنازے پڑھتے ہیں، سکیورٹی فورسز کے جوان سرحدوں پر اپنی جانیں قربان کرتے ہیں،ہم اور آپ اس لیے چین سے سوتے ہیں کہ آپ کے محافظ جاگ رہے ہوتے ہیں۔قبائلی علاقوں میں بہادر لوگ رہتے ہیں جو ملکی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں، شہدا کی وجہ سے ہماری سرحدیں محفوظ ہیں، بھارت کے خلاف ایک جنگ لڑ چکے ہیں، بھارت دوسری پراکسی جنگ افغانوں کے ذریعے لڑ رہا ہے ، افغان بھارتی پراکسی کے طور پر کام کررہے ہیں۔
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک )پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کریکس کے اگلے مورچوں پر آپریشنل اور جنگی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور کہا سرکریک سے جیوانی تک بحری حدود کا دفاع کرنا جانتے ہیں ۔ اس موقع پر پاک میرینز میں تین جدید ترین 2400 ٹی ڈی ہوورکرافٹ کو باضابطہ طور پر شامل کیا گیا، جو پاک بحریہ کی آپریشنل استعداد میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔نئے شامل کیے گئے ہوورکرافٹ بیک وقت مختلف النوع ماحول میں مؤثر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جن میں کم گہرے پانی والے ، ریتیلے اور دلدلی ساحلی علاقے شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارم ان مقامات پر بھی مؤثر ہیں جہاں روایتی کشتیوں کی آپریشنل استعداد محدود ہوتی ہے ۔ زمین اور سمندر پر بیک وقت کارروائی کی یہ منفرد صلاحیت پاک میرینز کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں نمایاں برتری فراہم کرتی ہے اور پاک بحریہ کی مجموعی دفاعی قوت کو مزیدمستحکم بناتی ہے ، تاکہ دشمن کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن ردِعمل یقینی بنایا جا سکے ۔
سربراہ پاک بحریہ نے افسروں و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان جدید پلیٹ فارمز کی شمولیت پاک بحریہ کی جدید خطوط پر استوار ہونے کی کاوشوں اور ملکی سمندری سرحدوں، بالخصوص کریکس کے دفاع کے غیرمتزلزل عزم کی مظہر ہے ۔ایڈمرل نوید اشرف نے مزید کہا کہ سمندری مواصلاتی راستوں اور میری ٹائم سکیورٹی کا تحفظ محض عسکری ضرورت نہیں بلکہ قومی خودمختاری، معاشی خوشحالی اور استحکام کی اساس ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک بحریہ بحرِ ہند کے خطے میں امن و استحکام کی ضامن اور قابلِ اعتماد قوت ہے ۔نیول چیف نے مزید کہا کہ ہم اپنی خودمختاری اور سر کریک سے جیوانی تک اپنی سمندری سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔امیرالبحر نے قوم کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتیں ساحلوں سے سمندر تک ہمارے غیرمتزلزل حوصلے کی طرح مضبوط ہیں۔