22 ہزار کیسز آئینی عدالت منتقل، سپریم کورٹ میں ججز اسامیاں تقریبا ًنصف کرنیکا فیصلہ

22  ہزار کیسز آئینی عدالت منتقل، سپریم کورٹ میں ججز اسامیاں تقریبا ًنصف کرنیکا فیصلہ

زیرالتوا مقدمات بڑھنے پر حکومت نے اسامیاں 34کی تھیں ،منتقلی کے بعد کیسز 34ہزار رہ گئے سپریم کورٹ میں ججز کی اسامیاں 19کئے جانے کا امکان، ایکٹ میں ترمیم یا پھر آرڈیننس لایا جائیگا

لاہور (محمد اشفاق سے )وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججز کی طے شدہ أسامیاں تقریباً50فیصد تک کم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ججز کی طے شدہ اسامیاں 34سے کم کرکے 19تک کیے جانے کا امکان ہے ۔سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافے پر حکومت نے سپریم کورٹ میں ججز کی اسامیوں کی تعداد بڑھا کر 34کردی تھی جس میں سے آئینی بینچ بناکر آئینی کیسز علیحدہ کردئیے گئے لیکن 27ویں ترمیم کے تحت پہلی وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے جو فی الحال 7ججز پر مشتمل ہے ، جس کے بعد سپریم کورٹ میں زیر التوا 56ہزار مقدمات میں سے 22ہزار مقدمات آئینی عدالت کو منتقل کردئیے گئے جبکہ سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات 34ہزار رہ گئے ہیں ،اس لیے اب سپریم کورٹ میں اتنی بڑی تعداد میں ججز کی ضرورت نہیں رہی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں ججز کی طے شدہ اسامیوں کی تعداد کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نمبر آف ججز ایکٹ1997میں ترمیم کی جائے گی یا پھر صدارتی آرڈیننس کے تحت بھی اسے کم کیا جاسکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 34سے کم کرکے 19کیے جانے کا امکان ہے ۔اس حوالے سے ممبر جوڈیشل کمیشن احسن بھون کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز کی طے شدہ اسامیاں کم کرنے کا اقدام قابل تحسین ہے ،حکومت کو ججز کی تعداد سے متعلق اقدامات فوری کرنے چاہئیں جس سے حکومت پر مالی بوجھ میں بھی کمی ہوگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں