اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا راستہ ہو یا اقتدار سے بے دخلی کے بعد عوامی ہمدردی سمیٹنے کا عمل‘ سٹریٹ پاور ہمیشہ اہم عنصر ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایک بار پھر اپنی پوری قوت کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کئی بار کے ناکام احتجاج کے بعد اب پی ٹی آئی باقاعدہ منصوبہ بندی اور نئی قیادت کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ یہ تحریک محض ایک احتجاج نہیں بلکہ اس طویل کشمکش کا نیا رخ ہے جو ملک کو ایک بار پھر سیاسی غیریقینی کی طرف لے جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی سٹریٹ موومنٹ ماضی کے احتجاجوں سے مختلف نظرآتی ہے۔ ماضی میں جذباتی نعروں اور اچانک کالز پر انحصار کیا گیا‘ لیکن اس بار پارٹی نے ورکرز موبلائزیشن کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ شاید مولانا فضل الرحمن سے سیکھ لیا ہے کہ احتجاجی تحریک کو مرحلہ وار کیسے شروع کرنا ہے۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی قیادت مختلف شہروں کے دورے کر رہی ہے تاکہ احتجاج کی بڑی کال سے قبل عوامی سطح پر ماحول سازگار بنایا جا سکے۔ ایک طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سندھ کے دورے پر ہیں‘ دوسری طرف بیرسٹر علی ظفر تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن اتحاد کو منظم کر رہے ہیں جبکہ راولپنڈی اڈیالہ جیل کے سامنے پی ٹی آئی کی خواتین رہنما عظمیٰ خان کی قیادت میں جز وقتی دھرنا دیے بیٹھی ہیں۔ لاہور‘ راولپنڈی اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں پی ٹی آئی کی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پی ٹی آئی اب تنہا نہیں بلکہ دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر وسیع تر عوامی دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے عمران خان سے ملاقات کی بنیادی شرط رکھی گئی ہے۔ بظاہر یہ شرط سادہ معلوم ہوتی ہے لیکن اس کے پیچھے گہری سیاسی جہتیں پوشیدہ ہیں۔ بیرسٹر علی ظفر کا یہ دو ٹوک مؤقف کہ خان صاحب سے ملاقات کے بغیر کوئی بات چیت نہیں ہو گی‘ ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی ڈور آج بھی اڈیالہ جیل سے ہی ہل رہی ہے۔ حکومت کے لیے یہ شرط ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر حکومت عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیتی ہے تو اس سے پی ٹی آئی کو سیاسی آکسیجن ملے گی اور پارٹی قیادت کو براہِ راست ہدایات ملنے سے احتجاجی تحریک میں نئی روح پھونکنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ حکومت سمجھتی ہے کہ عمران خان کی شمولیت سے مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے کیونکہ خان صاحب کا سیاسی مزاج سمجھوتے کے بجائے مزاحمت کی پالیسی پر مبنی رہا ہے۔ دوسری طرف ملاقات کی اجازت نہ دینا پی ٹی آئی کو یہ اخلاقی جواز فراہم کرتا ہے کہ حکومت سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے اور بنیادی انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف میں تمام فیصلے عمران خان کی شخصیت کے گرد گھومتے ہیں۔ جب تک خان صاحب جیل سے باہر تھے تحریک عروج پر تھی لیکن ان کی قید کے بعد متبادل قیادت کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔ موجودہ قیادت کی فیصلہ سازی میں مشکل پارٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جب تک خان صاحب کی جانب سے واضح اشارہ نہ ملے‘ قیادت حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اس بات پر زور دے رہی ہے کہ قیادت کا رابطہ خان صاحب سے بحال ہو تاکہ احتجاج کی سمت کا تعین کیا جا سکے۔
سیاسی تلخیوں کے دور میں سندھ نے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ جہاں پنجاب میں پی ٹی آئی کو سخت سیاسی مخالفت کا سامنا ہے وہیں سندھ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا استقبال ایک مثبت تبدیلی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف انہیں خوش آمدید کہا بلکہ اجرک اور سندھی ٹوپی پہنا کر روایتی مہمان نوازی کا ثبوت بھی دیا۔ یہ رویہ جمہوری اقدار کی پاسداری کی علامت ہے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ لیکن وفاق کی اکائیوں کے سربراہوں کے درمیان اس قسم کا احترام سیاسی تلخیوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سندھ کا یہ طرزعمل ظاہر کرتا ہے کہ تصادم کے بجائے بات چیت اور باہمی احترام کے ذریعے بھی معاملات کو بہتر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔
حکومت کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج پی ٹی آئی کی سٹریٹ موومنٹ ہے۔ معاشی اشاریے اگرچہ کچھ بہتر ہوئے ہیں تاہم مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام بدستور قائم ہے جو کسی بھی عوامی اشتعال کو ابھار سکتا ہے۔ اب کی بار اگر عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو یہ پچھلے دو برسوں کے احتجاج سے کافی مختلف ہو سکتا ہے۔ حکومت اگرچہ احتجاج کو روکنے میں کامیاب ہوئی تھی مگر یہ کامیابی طاقت کے استعمال سے حاصل ہوئی‘ سو اس بار حکومت کیلئے طاقت کا استعمال آسان ہو گا نہ ہی جمہوری حکومتیں ایسا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست طاقت کے زور پر عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہے تو وہ آواز ایک طوفان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایران کی صورتحال میں سیکھنے والوں کیلئے کافی سامان ہے۔ وہ ملک جو کل تک اسرائیل جیسے دشمن کے خلاف متحد تھا آج اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کے فیصلے ان کی مرضی کے خلاف ہو رہے ہیں تو وہ سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور پھر حکومت کے لیے انہیں سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اگر عوامی غصے کو سیاسی عمل کے ذریعے راستہ نہ دیا گیا تو یہ اشتعال کسی بھی وقت بڑے بحران کی صورت اختیار کر سکتا۔ حکومت اس وقت دہری مشکل کی شکار ہے۔ ایک طرف اسے سڑکوں پر پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی احتجاجی لہر کا سامنا ہے جو سیاسی استحکام کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے تو دوسری طرف معاشی چیلنجز موجود ہیں۔ معاشی بہتری کیلئے جس تسلسل کی ضرورت ہے وہ سیاسی استحکام سے جڑا ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کی یہ کوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح پی ٹی آئی کو مختلف معاملات میں مصروف رکھا جائے تاکہ احتجاج کی شدت کو کم کیا جا سکے‘ لیکن وقت گزاری کی یہ حکمت عملی زیادہ دیر تک کارگر ثابت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے مسائل کا مستقل حل ممکن ہے۔
حکومت کے سامنے اس وقت دو ہی واضح راستے موجود ہیں۔ پہلا راستہ طاقت کے استعمال کا ہے‘ حکومت کو حتیٰ الامکان اس سے گریز کرنا چاہیے۔ دوسرا اور بہتر راستہ سیاسی مفاہمت کا ہے‘ جس کے تحت پی ٹی آئی کی کچھ جائز شرائط تسلیم کی جا سکتی ہیں۔ عقلمندی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ معاملات کو مزید سنگینی کی طرف جانے سے روکا جائے۔ اگر حکومت پی ٹی آئی کو مناسب پولیٹکل سپیس دینے پر آمادہ ہو جائے تو ملک کو ممکنہ تصادم اور انارکی سے بچایا جا سکتا ہے۔ درمیانی راہ ہی سب کے مفاد میں ہے۔ اگر حکومت یہ شرط رکھ دیتی ہے کہ پہلے میثاقِ معیشت پھر مذاکرات تو حکومت کا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور اسے اخلاقی حمایت بھی حاصل ہو گی۔ جب سیاسی پریشر بڑھتا ہے تو غلطیاں ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس وقت فریقین ایسی پوزیشن پر ہیں جہاں ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ جو فریق صبر‘ تحمل اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے گا‘ وہی عوام کی نظر میں سرخرو ہو گا۔ ملکی مفاد اس میں ہے کہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی طرف بڑھا جائے تاکہ جمہوری روایات کو تقویت ملے اور ملک استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکے۔